مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 251
۲۵۰ لا اخْرِجُ اَحَدا مِنَ الدُّنْيَا أرِيدُ اغْفِرُ لَهُ حَتَّى اسْتَولّى كل خطيئته في عُنقه بِسُقْمِ فِي بَدَنِهِ وَاخْتَارِ فِي بِنْتِهِ - خاکسار بھی چونکہ اپنے بچپن کے زمانہ سے ہمیشہ بیماری میں مبتلا رہا ہے اس لئے یہ ارشاد سُن کر بے حد خوش ہوا اور اپنی سب تکالیف مجھے راحت نظر آنے لگیں۔تھوڑی دیر بعد میں نے غفران سے کہا۔" بھائی ، بہت کچھ تم نہ جناب اہلی کی مغفرت کا میں نے دیکھ لیا۔یہاں کا معاملہ تو ایک حجر نا پیدا کنار ہے۔اور میں اب تھک بھی گیا ہوں۔اب تو مجھے واپس لے چل۔چنانچہ ہم واپس ہوئے۔مگر راستہ میں میری تکان کو دیکھ کہ اس نے مجھے باتوں میں مصروف رکھا اور بتایا گیا کہ مغفرت کی بعض وجوہ اور اسباب کیا ہیں چنانچہ مختصر عرض کرتا ہوں۔ا۔-1 یہ کہ کوئی شخص خواہ اس کا کتنا ہی ایمان ہو یا کتنے ہی اعلیٰ عمل ہوں ایدی جنت اور دائمی مغفرت کا دارت صرف اپنی کوشش کی وجہ سے نہیں ہو سکتا بلکہ یہ سب چیزیں جاذب فضل خدا ہیں۔اس اصل چیز فضل الہی ہے اور کسی انسان کی نجاست عمل پر نہیں بلکہ فضل پر موقوف ہے۔۔دوسرا اصل یہ ہے کہ خداوند تعالی بڑا ہی نکتہ تو از ہے۔تیسرا یہ کہ وہ بالا رادہ غفور الرحیم ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے کسی کو بے حساب بخش ہے اور کسی کو ہلکا سا حساب لے کر، اور کسی سے پورا حساب مانگتا ہے۔تم اس کا رحم ہمیشہ اس کے غضب پر غالب ہے۔اس کی سب سزائیں بھی کسی حکمت مصلحت اور اصلاح پر مبنی ہیں نہ کہ تنگی اور غصہ پر۔یہاں تک کہ جہنم بھی ایک شفا خانہ ہے اور عارضی ہے نہ کہ دائمی۔