مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 249
۲۴۸ حمزہ ہمارا شہر ہے لیکن ہم نے جو قصاص لیا ہے وہ بھی ظاہر ہے اور جو مقام قرب کا ہم نے اسے بخشا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔کیا یہ صیح نہیں کہ ایک لونڈی نے ان اونٹنیوں کو حمزہ سے کہہ کہ مروایا۔اسی طرح وحشی جو ایک غلام تھا اسے بھی العام دے کہ احد میں لایا گیا تھا اور اس کے حربہ نے حمزہ کا پیسٹ اسی طرح چاک کیا جس طرح ان جانوروں کا پیٹ پھاڑا گیا تھا۔پھر مہندہ زوجہ ابوسفیان نے حمزہ کا کلیجہ اس زخم میں سے اسی طرح نکالا جس طرح حمزہ نے ان جانوروں کے کلیجے نکالے تھے اور جس طرح اونٹنیوں کے جگر کباب بنا کہ کھائے گئے تھے اسی طرح حمزہ کا جگر بھی ہندہ نے میدان احد میں سب کے سامنے کھڑے ہو کر چایا۔اور دوسری اونٹنی کے بدلہ میں اس عورت نے ان کو مسلہ بھی کیا امینی ان کے ناک کان اور ہونٹ کاٹ کر ہار بنا کر اپنے گلے میں ڈالے اور میدان جنگ میں تخریہ لوگوں کو دکھاتی پھری۔اور انہوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ کا غلام کہا تھا تو ایک حبشی غلام ہی نے ان کا کام تمام کیا اور یہ نصیب نہ ہوا کہ کسی معزز سردار قریش کے ہاتھ سے مارے جاتے۔اب بتاؤ کون سی چیز ہے جس کا قصاص حمزہ سے نہ لیا گیا ہو۔اونٹنیوں کا میگر کھانے والی بھی ایک مغنیہ تھی اور حمزہ کا جیگر کھانے والی بھی ایک گانے والی تھی جو میدان احمد میں وہ مشہور گیت گاتی پھرتی تھی جس کا پہلا شعریہ ہے نَحْنُ بَنَاتُ الطَّارِقِ نَشِي عَلَى الثَّمَارِقِ ہاں چونکہ وہ ہمارا محبوب بندہ تھا ہم نے اس قصاص کو بھی ایک عزت کی شکل ے دی۔اس کا احد میں مارا جاتا اس کے سیدالشہداء مشہور ہونے کا باعث ہوا اور باقی باتیں جو مرنے کے بعد اس سے کی گئیں ان سے بھی اُسے کوئی تکلیف اور اذیت نہ ہوئی، نہ مثلہ ہونے کی ، نہ کلیجہ نکالنے کی اور نہ کلیجہ جانے کی۔پس ہم نے ایک ایسی عزت والی مغفرت کی چادر اس پر اوڑھا دی جس کی وجہ سے اس کے مارچ بھی بلند ہو گئے اور تمہارا دعویٰ قصاص بھی پیدا ہو گیا۔اب اسے لے جاؤ اور جنت میں اس کے بھتیجے کے پاس ہی اس کا