مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 215
۲۱۴ تیح اور ذکر الہی کے اوقات علاوہ پنج وقتہ نماز یا نوافل کے اندر ذکر کرنے کے (جن کے اوقات مشہور ہیں) حسب ذیل وقتوں میں تسبیح کرنے کی تاکید قرآن مجید میں پائی جاتی ہے۔1۔صبح کے وقت ہو شام کے وقت ۳۔دوپہر کے وقت کہ تیسرے پہر ہ - طلوع آفتاب سے پہلے ۶ غروب آفتاب سے پہلے ،۔رات کے درمیانی حصہ ہیں۔۔۔نمازوں کے بعدہ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت خدا کے ذکر میں ہی مصروف رہتے تھے۔حتی کہ بیت الخلا جانے کے موقعہ پر اور بیویوں سے خلوت کرنے کے وقت بھی حضور دعا میں مشغول رہتے تھے۔ذکر الہی اور جہاد مختلف اوقات کی بیان کی ہوئی مختلف اور متعدد احادیث سے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہلی کو جہاد سے افضل قرار دیا ہے مثلاً حب آپ سے پوچھا گیا کہ قیامت کے دن کون لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل او را علی در جید والے ہوں گے تو حضور نے فرمایا کہ ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورت ہیں۔اس پر پوچھا گیا کیا غازی ہے بھی یہ حضور نے جواب دیا ہاں اس غازی سے بھی جو کفار اور مشرکین پر تلوار چلائے یہاں تک کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہو جائے ، ایسے غازی سے بھی ذاکر افضل ہے۔صرف یہی ایک حدیث اس مضمون کی نہیں بلکہ مختلف لوگوں نے مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اسی کی ہم مطلب متعدد حدیثیں بیان کی ہیں۔جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ذکر کرنے والا جہاد کرنے والے سے افضل ہے۔ان احادیث نے کچھ مدت تک مجھے تعجب میں ڈالے رکھا لیکن آخر کار اس کے معنی