مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 216
۲۱۵ مجھ پر کھل گئے۔یعنی یہاں ذاکرین کے معنی صرف تیج پھیرنے والوں کے نہیں بلکہ ایسے لوگوں سے مراد ہے جو عقلی زبانی تقریری اور تحریری دلائل سے خدا تعالیٰ کا ذکر پھیلا کر لوگوں کو دہریت کفر اور شرک سے بچاتے ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید دنیا کے اندر قائم کرتے ہوں۔دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ وہ احمدیت یا (دین حق کے مبلغ ہوں۔ان کے مقابل غازی اور مجاہدہ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں۔جنہوں نے صرف تلوار کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا ہیں کیا شک ہے کہ عقلی مبلغ اسلام کا درجہ سینی مجاہد سے افضل ہے۔کیونکہ ایک تو خدا کا نام کافروں اور مشرکوں کے دلوں کے اندر داخل کرتا ہے۔مگر دوسرا صرف تلوار سے ان کا مقابلہ کرتا ہے۔اسی وجہ سے ذکر الہی کو ولن کو اللہ اکبر کہ کر تمام اعمال سے افضل بتایا گیا ہے۔مقام ذکر الہی مسجدیں گھر راستے دو کا نہیں مجلسیں ہر جگہ ذکر الہی کرنا چاہیے۔اور ہر کام کے وقت حل میں خدا کا نام اور اسی سے دُعا ہونی چاہیئے۔تب انسانی زندگی میں برکت آتی ہے۔نیز کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں ذکر الہی کا حکم ہے۔چونکہ ذکر سے محبت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ہر کام ہر آن اور ہر حالت میں ذکر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالی کی محبت ذاکر انسان پر اس طرح چھا جائے۔کہ اس کے ذرہ ذرہ میں مالک کے عشق کانشہ رچ جائے۔کیونکہ یہی عبودیت ہے اور اسی کا نام توحید ہے۔عرش کے خزانے اذکار میں سے بعض ذکر ایسے ہیں جن کی بابت احادیث میں آتا ہے۔کہ وہ عرش کے نیچے جو خدا کے خزانے ہیں اُن میں سے تحفتہ اہل دنیا کے لئے بھیجے گئے ہیں۔چنانچہ سورہ فاتحہ اور لا حول ولا قوة إلا بالله منجملہ ان عرش کے فرمانوں کے ہیں۔اس تعریف کا اصل