مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 214
۲۱۳ تعداد ذكر ذکر کی تعداد دو طرح سے ہوتی ہے۔انگلیوں پر رہا تسبیح کے دانوں پر مسیح کا استعمال نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہت ہے۔نہیں نے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا اور ان کے خلفاء کو تسبیح استعمال کرتے دیکھا ہے۔اگر تسبیح کا استعمال اپنی بندگی اور ذکر کا رعب جمانے کے لئے ہے تو حرام ہے لیکن اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ تسبیح اس لئے رکھے۔کہ ذکر الہی کو یاد کراتی رہے۔اور خاص خاص تعداد ذکر پر عمل ہو سکے اور وہ انگلیوں پر گنا نہ جانتا ہو تو جائز ہے۔عقد انامل سے اگر ذکر الہی کی گفتی کا کام لیا جائے تو انگلیوں پر ہی ایک ہزار تک گنتی ہو سکتی ہے۔لیکن انگلیوں کی گنتی سوائے خاص لوگوں کے کوئی نہیں جانتا اور اگر کوئی سیکھنا چاہیے تو یہ گفتی مشکل نہیں ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انگلیوں پر ہی گنے کی تاکید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واحقدن الانامل فاتتهن مسئولات مستنقطقات یعنی اسے عور تو تم تسبیح تہلیل اور تقدیس کیا کرو اور انگلیوں کے ساتھ کیا کرو۔کیونکہ انگلیاں قیامت میں پوچھی جائیں گی اور ان کو گویا کیا جائے گا۔(تسندی) اس سے معلوم ہوا کہ انگلیوں کے پوروں پر ذکر کرنا افضل ہے۔رہا یہ امر کہ ذکر کی گفتی کس قدر ہو۔سو یا د رکھنا چاہیئے کہ فرض نماز کے بعد تینتیس تنیس دفعہ سُبحان اللہ اور الحمد لله اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر کہے یا بموجب ارشاد حضرت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کم از کم ۱۲۷۲ دفع تسبیح اور درود شریف کے ذکر کی تعداد کا تعین ثابت نہیں ہے در حقیقت یہی ہے کہ ذکر الہی بکثرت اور ہر وقت کتنا ضروری ہے۔