مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 192 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 192

191 بچوں کے لئے بھی ہنسی کا مقام ہے۔چہ جائیکہ کوئی عقلمند اسے اس طرح پیش کر ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قرآن مجید میں آتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ اللہ مغلولہ۔یعنی اللہ تعالیٰ صرف علت العلل ہے۔مجبوراً اور اضطرارا اپنے ہی قوانین میں مقید ہے۔گویا نعوذ باللہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔جس طرح مثلاً آگ خاصیت جلانے کی رکھتی ہے اسی طرح خدا تعالی سے بھی خلق اور دیگر صفات مجبوراً اور بعض قواعد کے ماتحت صادر ہوتی ہیں۔دراصل یہ تو آریہ کا عقیدہ ہے یا دھریہ کا۔کیونکہ وہ بھی نیچر میں ایک گریٹ پاور مانتا ہے۔سو جیسا دہریہ کا خدا د لیا ہی نیچری کا۔فرق صرف یہ ہے کہ نیچری خدا کا نام لیتا ہے اور وہ یہ نام لینے سے بھی کتراتا ہے۔بعض لوگ اپنی عقلی اور مشاہدے سے ہٹ کر قرآن کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں اور یوں کہنے لگتے ہیں کہ قرآن مجید نے جو بیان کیا ہے۔کہ ہم نے انسان کو جوڑا بنایا۔اور اسی جوڑے سے اس کی نسل پھیلائی ہیں ثابت ہوا کہ یہ سنت اللہ ہو گئی۔حالانکہ یہ بھی ان کی غلطی ہے۔اسے تقدیر کہتے ہیں۔اور جیسے خدا کی ایک تقدیر یہ ہے کہ ماں باپ سے مخلوق کا سلسلہ چلائے۔اسی طرح دوسری تقدیر یہ ہے کہ بغیر ماں باپ کے بھی یہ سلسلہ چلائے۔جیسے ابتدائے آفرینیش کے وقت کیا تھا۔پھر تیسری تقدیر یہ کہ ماں باپ میں سے مثلا باپ نہ ہو۔اور صرف ماں سے بچہ پیدا ہو جائے۔ہاں کثرت قلت کی اور بات ہے۔کہ کونسی تقدیم کسی زمانہ اور کن حالات میں جاری ہوتی ہے اور کونسی بکثرت رائج ہے۔اور کونسی کم۔مگر ہم اسے بھی سنت اللہ نہیں کہیں گے۔یہ تو تقدیر کہلاتی ہے۔اور ہزاروں تقدیریں ایک ام کے کرنے ک اللہ تعالی کےعلم ہی میں بھی کسی طرح وہ کام ہوتا ہے اور بھی کسی طرح۔اور کبھی ایک زمانہ میں ہی کئی مختلف طریقوں سے۔و سنت اللہ ، یہ خلاف اس کے اللہ تعالیٰ کی وہ عادت ہے۔جو ہمیشہ ایک ہی طرح جاری ہوتی ہے۔اور کسی زمانہ میں اور کبھی بھی اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔نہ اس کے