مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 191
14۔سنت الله آج کل اکثر لوگ جب کوئی دعویٰ کہ بیٹھتے ہیں تو ان کے ثبوت میں صرف یہ کہنا کافی سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بات سُنت اللہ ہے۔" یا سنت اللہ نہیں ہے۔اور اس لفظ کے بوجھ کے نیچے وہ اپنے فریق مقابل کو دبانا چاہتے ہیں۔حالا حکم پو چھا جائے۔یا تفتیش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خود منت اللہ کا مفہوم نہیں سمجھتے۔سب سے بڑی غلطی جو وہ کرتے ہیں یہ ہے کہ سنت اللہ وہ اس قانون کو کہتے ہیں۔جو انہوں نے اپنے مشاہدہ سے اور خود اپنی عقل سے خدا کے لئے تجویز کیا ہو۔مثلاً کبھی سے ناصری کے باپ کے متعلق بحث ہو تو فورا کہہ دیتے ہیں کہ ایسے انسان کا ہونا ہو بے باپ کے پیدا ہو سنت اللہ کے خلاف ہے۔پر اس کے معنے ان کے دل میں یہ ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم نے یا ہمارے ملنے والوں نے ایسا ہوتا نہیں دیکھا۔لہذا یہ خدا کی سنت بن گئی۔نہ خدا کبھی ایسا کر سکا نہ کرتا ہے نہ کر سکے گا۔حالانکہ وہ ان محدود المعقلی محدود العلم انسان خدا تعالٰی کی سنت اس کی قوت اور اس کی قدرتوں کی حدیت کہاں کر سکتا ہے اس سے بڑھ کر احمق بین اور کیا ہوگا کہ ایک ۲۵ - ۳۰ ساله کمر در جاهل انسان ازلی ابدی بڑھ پن - غیر محدود فعال نما یرید اور قادر مطلق خدا کی قدرتوں کا احاطہ کرے اور کہہ دے کہ فلاں بات سُنت اللہ ہے اور خدا تعالیٰ اس کے برخلاف نہیں کر سکتا یا نہیں کرتا۔گویا کہ آپ نے اپنی طرف سے خدا کے ہاتھ باندھ دیئے اور حکم دے دیا کہ اس فلاں کام اس طرح سے ہوا۔اور دوسری طرح سے نہ ہو۔میرے خیال میں سنت اللہ کا یہ مفہوم