مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 679 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 679

لئے فخر ہیں۔رشتہ داروں کو اپنا نفس کھلنا پڑتا ہے۔رضا بقضا ہونا پڑتا ہے اور ا لنبلونکم والے ابتلاؤں کو پاس کرنا پڑتا ہے۔نیک اور غدار سیدہ ہونے کے سب دعو سے پہلے جاتے ہیں۔۲۶۔ایک ٹھوکر کھا کہ آئندہ ویسی بد پر ہی لوں سے بچوں کو بچانا آجاتا ہے۔-۲۷ ڈاکٹروں حکیموں کی نئی نئی دواؤں کا تجربہ ہوتا ہے نیز بیماریوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔انسان روئے زمین پر خدا کا خلیفہ اور اس کا مظہر ہے۔نہیں بچوں کو بیماری اس لئے بھی بھیجی جاتی ہے کہ خدا کا خلیفہ اور نائب ایک فوج خدائی صفات یعنی رحم کرم شفقت۔شفه احیاء ربوبیت وغیرہ کی اپنی طرف سے اس دکھ کے مقابل پہ لاکر کھڑی کر دے۔اگر بیماری موت اور شفا نہ ہوتے تو انسان بھی خدا کا ادھورا سا خلیفہ ہوتا۔نہ کہ کامل ۲۹۔بچوں کو بیماریوں میں صرف جسمانی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔اور وہ بھی بڑوں سے کم بیٹوں کو تو اپنی بیماری میں اہل و عیال کے آئندہ گزارہ کا غم اور جینوں ضروری کاموں کا جو معلق رو گئے ہوں : فکر ہوتا ہے۔اور بیماری کے درد کے ساتھ ان کو سخت ذہنی فکر اور رنج دھن بھی ہوتے ہیں۔جن سے بچہ بالکل آزاد ہوتا ہے۔نہ وہ موت کو جانتا ہے نہ ذمہ داری کو اس لئے سوائے جسمانی وکھ کے اُسے غم فکر رنج وغیرہ نہیں ہوتے۔علاوہ ازیں چونکہ اس کے احساسات بھی قومی نہیں ہوتے۔اس لئے مجسمانی درد بھی اسے بڑے آدمی کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔پس یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔خلاصہ مضمون لمبا ہو گیا ہے۔اس لئے میں مختصراً اس کا خلاصہ حسب ذیل کر دیتا ہوں۔(اول) موجودہ عالم کا تمام نظام بدلنے کے سوا معترض خوش نہیں ہو سکتا اور تمام نظام