مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 680 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 680

469 عالم کے بدل دینے سے یہ بہتر ہے کہ اعتراض ہی واپس لے لیا جاوے۔(دوم) یہ دنیا اصل مقام انسان کا نہیں ہے بلکہ اصل جگہ اس کے رہنے کی ایک اور عالم ہے۔(سوم) اس دنیا میں بھی شکر کی مقدار ڈکھ کی نسبت زیادہ ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ شیخی مرنے سے ڈرتا ہے۔خواہ کیسی ہی تکالیف میں ہو۔(چہارم) انسان کی پیدائش کی غرض خداشناسی ہے اور یہ غرض اس دنیا میں دکھ اور سکھ کی موجودگی سے پوری ہوتی ہے۔(پنجم) قیامت میں بچہ ہو یا بڑا۔ہر ایک کو اپنے اپنے دکھ کے نمبر ملیں گے۔اشتم مفلس اور غریب لوگ امراء کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے یہ ان کے افلاس کی جزا ہے۔۔کئی بیماریاں مومن کو شہید کے درجہ تک پہنچا دیتی ہیں۔یہ ان تکالیف کا بدلہ ہے۔(اسم) وَلَوْبَسَطَ اللَّهُ ازْقَ لِعِبَادِ البَغَوْا فِي الأَرضِ (الشورى، ۲۸) اگر اللہ تعالیٰ بندوں کے لائے رزق کے دروازے کھول دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ سرکش اور باغی ہو جاتے۔پس دُنیا کے امن کی خاطر بھی مصائب ضروری ہیں۔رہمی یہ موجودہ نظام دنیا کا بغیر اختلاف کے نہیں چل سکتا تھا۔اس لئے کمال حکمت سے خدا تعالیٰ نے خوشی مال صحت آزادی ، عزت علم عقل اور بیماری ، دکھ موت، افلاس رنج غم تفکر وغیرہ چیزیں لوگوں میں تقسیم کر دیں تاکہ وہ کارخانہ عالم کو ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ چلا سکیں۔غریب امیر کا کام کر ہے۔امیر غریب کی پرورش کرے ، اہل علم طرح طرح کے علم کے نتائج سے اس باغ دنیا کو آنہ استہ کریں۔اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہو۔انسان اپنے رب کو پہچانے۔اس کی اطاعت کرے اور دنیا کو اس سے روشناس کرائے اور بالآخر مرنے نکے بعد ایدی جنت کا وارث ہوا اور اس کی ساری تکالیف میٹ جائیں۔بلکہ ان میں سے ہر