مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 633
۹۳۲ حضرت یعقوب علیہ السلام کا نابینا ہوتا تو عارضی ہی تھا۔مستقل نہ تھا۔اور بقول بعض بزرگوں کے ابیضت عینا کے معنی یہ ہیں۔کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈیڈ یا گئیں۔لیکن تورات میں حضرت اسحق کا نہ صرف آخری عمر میں اندھا ہو جاتا لکھا ہے۔بلکہ یہ بھی کہ ان کے نابینا ہو جانے کی وجہ سے لوگوں نے ان کو دھوکہ دے کہ ایک غیر حق بیٹے کو نبی بنوا لیا !! حالانکہ موٹی بات ہے۔کہ اگر نبی ہی اندھا ہو جائے تو وہ لوگوں کو ہدایت کیا دے گا۔بلکہ الٹ لوگ اُسے دھوکا دے لیا کریں گے جیسا کہ تورات نے حضرت اسحق کے بارے میں لکھا ہے۔ہمارے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کو تو خدا تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ تیرے تین اعضا پر ہماری خاص رحمت ہے۔اور ان میں سے ایک عضو آنکھ ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خاص تیری آنکھیں ملاقات رہیں گی۔اور دوسرے نبی اندھے بھی ہوسکتے ہیں۔بلکہ حضور کو یہ تسلی اس واسطے دی گئی تھی کہ آپ کو ذیا بیطس وغیرہ کی تکلیف کی وجہ سے اور ہمیشہ قلمی محنت کرنے کے سبب سے آنکھوں کا خطرہ دیگر انبیاء سے زیادہ لاحق تھا۔بیس ایسی تسلی خدا کی طرف سے طنی ضروری تھی۔تاک بے فکر ہو کر تحریہ کا کام کر سکیں۔جو حضور کا خاص نشان اور معجزہ تھا۔بالآخر یہ عرض ہے کہ دراصل میرا مقصد احباب کو اس مسنون دعا کی طرف توجہ ولانے کا تھا۔کہ وہ اسے بھی اپنے معمولات میں شامل کریں۔اور بڑی بیماریوں اور امراض کے گندے حصوں سے نجات حاصل کریں۔آمین۔الفضل ۶ دسمبر ۱۹۴۳ء)