مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 634
Math شاعر بعض لوگوں کا یہ حال ہے۔کہ جہاں شعر اورست معری کا نام آیا۔فوراً یہ خیال کرنے لگتے ہیں۔کہ یہ بدعت ہے کفر ہے۔اور ناجائز امر ہے۔اور یہ اکثر ید یہی لوگ ہی ہوتے ہیں حالانکہ ان کے لئے فیصلہ کا راستہ بہت آسان تھا۔یعنی یہ کہ وہ دیکھ لیتے۔کہ خود کلام الہی شعر و شاعری کے متعلق کیا فتوئے دیتا ہے۔آیا اسے لیتی ایک ناجائمہ امر ٹھہراتا ہے۔یا اچھی شاعری اور بڑی شاعری دو الگ قسمیں شعر کی ٹھہرا کر ایک کو جائزہ اور دوسری کو نا جائہ فرماتا ہے۔کیونکہ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑوں میں سب سے اعلیٰ اور سب سے صحیح تر حکم اللہ تعالیٰ کا اپنا فرمان ہی ہو سکتا ہے۔قرآن مجید میں ایک سورۃ کا نام سورۂ شعرا ہے۔اس میں شاعروں اور ان کی شاعری کا بھی ذکر ہے۔اور شاعروں کے حق میں یہ فرمان صادر ہوا ہے۔والشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَانَ لَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُل وَادِ يَهِيمُونَ وَانَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ لِي إِلَّا الذين امنوا وعملوا الصَّالِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا آتَى مَنْقَلَبِ يَنْقَلِبُونَ (الشعرار ۲۲۵ تا ۲۲۸) اور وہ شاعر بھی شیطانی لوگ ہیں۔کہ گمراہ لوگ جن کی پیروی کرتے ہیں۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ ہر جنگل میں سرگردان پھرتے ہیں اور یہ کہ دو کہتے تو ہیں پر کرتے نہیں بجزان