مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 632
واضح ہو کہ انبیاء کو اللہ تعالی مخصوص طور پر بڑے اور خبیث امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔اور کسی مدعی نبوت کا ان میں مبتلا ہوتا اس کے دعوئے نبوت کے لئے کافی تردید ہے۔ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں صاحب نے جو رسول ہوتے کا دعوے کیا ہے۔وہ چونکہ ہمیشہ سے بہت نیک اور پارسا آدمی ہے تو کیا ہم ان کو رسول مان لیں۔میں نے کہا مومن اور نیک ہوتا اور بات ہے۔اور رسالت اور نموت الگ چیز ہے بشلاً میں اس شخص کو رسول اس لیے نہیں مانتا کہ اس کے چہرہ سے تاک جھڑ گئی ہے۔اب یہ نقص ولایت میں تو ہارج نہیں ہے۔مگر رسالت میں قطعی طور سے ہارج ہے۔نیز اپنی صاحب کو بارہا میں نے چار پائیوں سے اس لئے بندھے ہوئے اور رسیوں سے جکڑے ہوئے دیکھا ہے۔کہ ان پر سخت قسم کے دورے جنون کے پڑتے تھے۔اور وہ لوگوں کو مارتے اور گالیاں دیتے تھے۔پس یہ بھی رسالت کے منافی ہے۔ہاں البتہ حضرت داؤد کے لئے تورات میں بعض حالات ایسے بیان ہوئے ہیں۔جن سے ان کا آخری عمر میں سالہا سال بے کار ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔لیکن یہ اسلامی عقیدہ نہیں ہے۔اور تورات کی ہر بات ماننے کے قابل بھی نہیں ہے۔نیز یہودیوں میں بہت سے لوگ ان کے دشمن بھی تھے۔غالباً یہ اُن کی اڑائی ہوئی مبالغہ آمیز باتیں ہوں گی۔واللہ اعلم۔اسی طرح حضرت ایوب کے جسم کے مسٹر جانے اور کیڑے پڑ جانے کا بھی ہمارے مفسرین کے ہاں بہت ذکر آتا ہے۔سو جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں۔وہ بیان بھی بالکل غلط اور مزمل حیثیت انبیاء ہے اور ہم نے تو اپنی آنکھوں سے ایک ایسانی اس زمانہ میں دیکھا ہے جس کی صداقت کے نشانات میں سے ایک نشان اس کی بیماریاں بھی تھیں نگر با وجود ان بیماریوں کے اس کا جسمانی اور روحانی حسن روز افزوں ترقی پر تھا۔اور اس کا مرنا بھی اس طرح ہوا جس طرح انگریزی میں ایک مشہور مثل ہے کہ Dying in harness