مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 506 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 506

۵۰۵ والی ہوتی ہیں۔ان کا بوجھ زمین پر ہے۔اور ان کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔پھر تم کیوں تاجق رنج کرتے ہو۔حضرت خبائی پر یکم حضرت خباب مکہ میں شروع اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے۔یہ ایک عورت کے غلام تھے۔اور لوہاری کا کام کیا کرتے تھے۔ان کو بھی خدا کے راستہ میں سخت سخت تکلیفیں دی جاتی تھیں۔سب سے پہلے گھر سے باہر کے لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔وہ یہ ہیں یہ حضرت ابو بکردنم جاب۔جیت ، بلال ، عمار عمار کی والدہ اور والد۔حضرت ابو بکریم کے سوا باقی یہ لوگ یا تو غلام تھے یا پیشہ ور تھے۔اور تھے بھی اونی درجے کے۔اس لئے ان پر بڑے بڑے ظلم توڑے جاتے تھے۔ان کو لو ہے کی زد میں پہنائی جاتی تھیں۔اور چلچلاتی دھوپ میں لٹایا جاتا تھا اور ان پر پتھر رکھے جاتے۔گلے میں رسیاں باندھ کر زمین پر گھسیٹا جاتا۔لوہا گرم کر کے بدن کو داغ دیئے جاتے مگر یہ لوگ استقلال سے اسلام پر قائم تھے۔حضرت حجاب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے تنگ آ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکلیفوں کی شکایت کی۔آپ کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پرلیٹے تھے۔ہم لوگوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ آپ ہمارے لئے خدا سے مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ آپ یہ سی کہ اُٹھ بیٹھے۔آپ کا چہرہ مبارک شرخ ہو گیا اور فرمانے لگے۔تم سے پہلی امتوں میں جو ایمان والے گزر چکے ہیں۔ان کی تو یہ حالت تھی۔کہ ایک کو پکڑ کر زمین کھود کر آدھا گاڑ دیتے تھے۔اور پھر آرہ سے اُسے لکڑی کی طرح چیر ڈالتے تھے۔مگر وہ اپنے دین پر قائم رہتے تھے۔اور کسی کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا جاتا تھا۔اور وہ لنگھیاں ہیں کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھیں۔مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے تھے۔یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو بھی یقین غلبہ دیگا۔یہاں تک کہ ایک سوار عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تنک