مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 507
;" 004 چلا جائے گا۔اور ایسا امن ہو گا۔کہ اسے خدا کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو گا۔اور یہ جو بھیڑیئے رانسان) تم کو نظر آتے ہیں۔یہ بکریوں کی حفاظت کریں گے۔مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان جناب کی دکان پر کبھی کبھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔جب خیاب کی مالکہ کو یہ خبر ملی۔تو وہ لوٹا گرم کر کے ان کے سر پر رکھا کرتی۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حال سنایا۔حضور نے دعا فرمائی کہ اے اللہ جناب کی مدد کر۔اس کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ جہائے کی مالکہ کے سرمیں ایسی مرضی پیدا ہو گئی۔کہ وہ کتوں کی طرح بھونکتی رہتی تھی۔حکیموں نے یہ نسخہ تجو یہ کیا کہ اس کے سر پر داغ دیئے جائیں۔چنانچہ جناب بھی لوہا گرم کر کے اس کے سر کو داغ دیتے رہتے تھے۔یہ خدائی انتقام تھا ) حضرت عمروض نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک دن ان سے پوچھا کہ اے جیاب ناؤ تمہیں مکہ کے کافروں سے کیا کیا تکالیف پہنچا کرتی تھیں۔جناب بولے۔اسے امیر المومنین ہے میری بیٹھ دیکھ لو حضرت عمراض نے دیکھ کر کہا کہ میں نے آج تک ایسی پیٹھ کسی کی نہیں کبھی۔جناب کہنے لگے کہ آگ روشن کی جاتی تھی۔اور اس مکتی آگ پر دہ لوگ مجھے لٹا دیتے تھے۔اور پکڑ کر دبائے رکھتے تھے۔یہاں تک کہ میری چربی پگھل کہ آگ کو بجھا دیتی تھی۔راب اے پڑھنے والے یہ حال سن کر پیچ پنچے بتاتا کہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام زیر دستی اور تلوار کے زور سے پھیلا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جبر یہ مسلمان بناتے تھے آیا یہ اعترین ٹھیک ہے ؟ تم فوراً بول اٹھو گے کہ ہر گز نہیں۔حقیقت ہی ہے۔کہ جو شخص بھی مسلمان ہوتا تھا وہ اپنے دل کی محبت اور خدا پر ایمان لاکر مسلمان ہوتا تھا۔کیا جائے جیسے لوگ زیر دستی مسلمان کئے جاسکتے تھے ؟)