مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 505 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 505

۵۰۴ بادشاہ دو جہاں کا ترکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی تعر یہ چھوڑا۔زہیں۔نہ کوئی لونڈی نہ غلام۔آپ کی ملکیت میں سے اس وقت صرف ایک سفید فیچر تھا۔جو باقی رہا۔یا کچھ ہتھیار۔ان میں سے بھی ایک زرہ ایک یہودی کے ہاں گروی پڑی تھی۔نہ بخیل نہ جھوٹا نہ بزدل منین کی جنگ سے واپسی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلے آرہے تھے کہ ایک ایک بہت سے گنوار بدوؤں نے آپ کو گھیری۔اور آپ سے مانگنے لگے۔یہاں تک کہ آپ کو ایک درخت کے نیچے لے گئے۔اور آپ کی چادر کھینچنے لگے۔آپ اس وقت سوار تھے۔آپ نے اُن سے فرمایا۔کہ میری چادر چھوڑ دو۔کیا تم مجھے بخیل سمجھتے ہو۔خدا کی قسم اگر اس جنگل کے کانٹوں کے برا یہ میرے پاس بکریاں ہوں۔تو میں سب کی سب تم لوگوں کو دے دوں۔اور تم مجھے جیل نہ پاؤ گے۔نہ جھوٹ بولنے والا۔نہ میر ول۔بیٹیوں والے کو تسلی ا نام ایک انصاری آپ کے پاس ایک دفعہ حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرہ پر رنج وغم کے آثار دیکھے۔فرمایا یا بات ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ میری کئی لڑکیاں ہیں۔ان کی وجہ سے میرا دل غمگین رہتا ہے۔اور میں تو ان کی موت کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا۔اس اتم ایسی بد دعا نہ کیا کرو۔دیکھو لڑکیوں میں بھی برکت ہوتی ہے۔یہی لڑکیاں نعمت کے وقت شکر کرنے والی مصیبت کے وقت تمہاری ہمدردی میں رونے والی اور تمہاری بیماری کے وقت تیمارداری اور خدمت کرتے