مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 384
Fir دارشین وغیرہ کا ترتیلی جوڑ طسم سے ہی لگ سکتا ہے۔اور تشقی - بخشی على استونی کے قوانی کا جوڑ طے سے ہی لگ سکتا ہے پس یہ ترتیلی خوبصورتی کے لیے ہے ورنہ دونوں جگہ آیت وہی ہے۔طس ( مثل) بھی ایک ایسا مقطعہ ہے کہ اس کے بعد آیت کا نشان نہیں۔یعنی یہ پوری آیت کا نمائندہ نہیں ہے۔بلکہ آیت نمبر 4 کے بعض الفاظ کا - غالبا اھدِنَا کو چھوڑ کر صرف الفاظ صراط مستقیم کا نمائندہ ہے۔جیسے کہ ملکہ سبا کو بطفیل حضرت سیلیمان مخصوص طور پر سیدھا راستہ مل گیا تھا کہ ایک بادشاہ نے اس پر چڑھائی کر کے اسے مسلمان بنایا تھا۔یہ ایسی ہدایت نہیں جس کے لئے کوئی دعا کے اھد نا کیا کرے۔بلکہ یہ ایک غیر معمولی راستنه صراط مستقیم پانے کا تھا۔اس لئے اس سورۃ کا مقطع میں نا تمام رہا۔یعنی طبس - صراط مستقیم ہی رہا۔نہ کہ پوری آیت اهْدِنَا المراة السقم والله اعلم۔غرض میں نے منتصر طور پر مقطعات قرآنی پر ایک نئے رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ایک تفصیلی راستہ بھی کھول دیا ہے۔کہ لوگ غور کر کے انفرادی طور پر ہر مقطعہ کے متعلق اور زیادہ صفائی سے علم حاصل کریں۔اس وقت تو میں نے ایک نا مکمل سا ڈھانچہ بنا کر پیش کیا ہے۔لیکن یہ بات بہت تلاوت اور غور چاہتی ہے۔جو اصول میں نے بیان کئے ہیں۔وہ میرے نزدیک پختہ ہیں۔لیکن ہر مقطعہ کا تعین ارتفصیل وقت اور مطالعہ چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ ہر اسد کے وہی ایک معنی نہ ہوں۔جو سورہ بقرہ میں واضح ہیں۔اور ممکن ہے کہ ہر حمہ کے وہی ایک معنی نہ ہوں جو سوره مومن میں ہیں۔پس ترقی ہو سکتی ہے اور مزید اصلاح بھی مگر اصل وہی رہے گا۔کہ یہ سورہ فاتحہ کے اجزاء ہیں۔