مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 383
۳۸۲ پس یہ مقطعہ السلام چاہیے تھا۔لیکن چونکہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا میم اس میں ترتیلی ٹھو کر پیدا کر تا تھا۔اس لئے اس ٹھوکر سے بچنے کے لئے نیز بلحاظ روانی ترتیل کے اُسے الما بنا دیا گیا۔طه واهْدِنَا الصِّرَاط المستقيم طسم : اهْدِنَا الصراط المستقيم دونوں ایک ہی چیز ہیں۔فرق یہ ہے کہ سورۃ طہ کا وزن اس طرز کا ہے کہ اس کا مقطعہ طلہ کے وزن پر ہونا چاہیئے اور طاس والی سورتوں کی آیتوں کی بناوٹ الیسی ہے۔کہ ان سے پہلے طبقہ آنا چاہیئے۔مثلاً دیکھو له و ما انزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرَاتِ لِتَشْقَى ، الا تذكرة تِمَن يخشى واطمه ۴۰۳۰) , توجہ ہم نے تجھ پر ایسا قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ توڑ کھ میں پڑ جائے ( یہ تو ) صرف (خدا سے) ڈرنے والے انسان کے لیے راہ نمائی اور ہدایت (کے لیے) ہے۔غرض اس سورۃ کی آیات کھڑی ذکیہ پر ختم ہوتی ہیں۔اس لئے منقطعہ بھی اسی وزن کا لایا گیا۔پر خلاف اس کے طلسم کی دونوں سورتوں یعنی شعراء اور قصص میں آیتوں کا قافیہ طے کی طرح الف لئے ہوئے نہیں ہے بلکہ یوں ہے۔السقوتِلكَ التُ الكِتابِ الْمُبِينِ۔لَعَلَّكَ بَاع نفسكَ اَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ) (الشعراء ٢٤) ترجمہ ار شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔پس مبین - مومنین - خاضعين معرضين یا مومتون - مفسدین