مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 385 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 385

۳۸۴ نمود تطبیق کا یعنی سورہ مریم اور کھیعص یہاں میں بطور نمونہ ایک مقطعہ کا تفصیلی ذکر کروں گا۔اور پھر اس سورۃ میں اس مقطعہ کے مضامین اور تطبیق ہونا بتاؤں گا۔تاکہ آپ منقطعہ کے مضامین اور اس کی سورۃ کے مضامین خود بھی چیک کر سکیں۔اور پھر چیک کر کے یہ معلوم کر سکیں کہ آیا تطبیقی ٹھیک اُترتی ہے یا نہیں۔یہی وہ رستہ ہے جس پر چلنے سے آپ مزید انکشافات اور ترجیحات اس مضمون میں کر سکیں گے۔انشاء اللہ۔اب میں قرآن مجید کے سب سے بڑے مقطعہ کھیعص اور اس کی تفسیر یعنی سورہ مریم کے مضامین کی تطبیق ذرا تفصیلا کرنے لگا ہوں تا کہ میرا نام بیان جواب تک کرتا چلا آیا ہوں آپ کے سامنے میرسن اور روشن ہو جائے۔واضح ہو کہ تھیعص سورہ فاتحہ کی تین آیات کا مقطع ہے۔یعنی آیت نمبر ہ ، آیت نمبر 4 اور آیت نمبرے کا۔دوسرے الفاظ میں میرا یہ مطلب ہے کہ یہ مقطعہ ابال لعبد وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا القِرَاء المُتَّقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین کا مختلف خلاصہ یعنی متقطعہ ہے جس میں کی اور بع سے آیا کے نعبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين مراد ہے۔اور ل اور ی سے اِهْدِنَا الصراط المستقيم مراد ہے۔اور ص سے مراد صراطَ الَّذِينَ۔۔۔۔الآیتہ یعنی آخری آیت فاتحہ کی مراد ہے۔اس کے بعد ہم سورہ مریم کی تلاوت شروع کرتے ہیں تو ہم کو صراحتا اور نہایت نمایاں طور پر معلوم ہوتا ہے۔اس سورۃ میں اکثر یہی مضامین آئے ہیں۔بلکہ بعض جگہ تو الفاظ ایسے غیر مسہم ہیں۔کہ ایک نا واقف کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یقیناً فاتحہ کی انہی آیات کا بیان اور اپنی کی تفسیر مصور ہی ہے۔لیجئے سنتے جائیے۔سب سے پہلے حضرت ذکریا کی دعا ہے یہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی تفسیر ہے۔