مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 368
تو اسے بھی ذہن میں مستحضر رکھا کر ہیں۔اعتراض یہ تھا کہ جن سورتوں پر مقطعات نہیں ہیں کیا وہ الحمد کی تفسیر سے باہر ہیں اور اگر باہر نہیں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان پر مقطعات نہیں آئے ؟ دوسرا اعتراض مثانی کے متعلق دوسرا اعتراض یہ ہے کہ آپ نے جو معنی مثانی کے کیہ کے فائو سے ان کو مخصوص کہ دیا ہے تو شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک اور جگہ یہ آیت نازل کی ہے۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ لِتُبَا مُتَشَابِها مَّثَاني تقشعر مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ۔۔۔۔۔۔(الزمره ۳۲) توجہ اور اللہ وہ ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب اتاری ہے۔جو متشابہ بھی ہے اور اس کے مضمون نہایت اعلیٰ ہیں۔جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اُن کے خیموں کے رونگٹے اس کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اب اگر مشانی کے معنے مکرر نازل ہونے والی کے ہیں۔تو یہاں تو یہ مثانی کا لفظ قرآن مجید کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔کیا یہاں بھی آپ وہی معنے اور مطلب لیں گے۔ا جواب اول بر میں خود تو اس آیت کو بھی فاتحہ پر ہی لگاتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایک سورۃ احسن الحدیث نازل کی ہے۔اور وہ سورہ شانی ہے۔یہاں احسن الحدیث کے معنی سورۃ فاتحہر ہی ہیں۔کیونکہ تمام قرآن میں حسن الحدیث یعنی سب سے اعلیٰ اور احسن سورۃ فاتحہ ہی ہے اور احسن الحدیث کے دوسرے لفظی معنے قرآن العظیم ہی کے ہیں۔عظیم معینی احسن اور حدیث میعنی قرآن کے یا ایک جملہ فاتحہ کو قرآن عظیم یعنی عظیم الشان پڑھنے کے فائق کام کہا گیا ہے۔تو دوسری جگہ اسمی فاتحہ