مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 367
حج - مومنون۔نور - فرقان ، احزاب سیا - فاطر صافات۔زمر - محمد فتح نجرات جیسی بڑی سورتیں یا دیود اس کے کہ وہ فاتحہ ہی کی تفسیر ہیں۔کیوں مقطعات سے خالی ہیں ؟ اس کے جواب میں اگر یہ کہا جائے کہ جب ایک مقطعہ مثلاً انڈا کی ایک سورت قرآن میں آگئی تو اس کے بعد مقبنی سورتیں بغیر مقطعات کے ہوں گی وہ سب اسی مقطعہ السدا کے ماتحت ہی ہوں گی۔مثلاً سورۃ آل عمران جس پر السر ہے۔اس کے بعد نساء، مائدہ اور انعام بغیر مقطعات کے ہیں۔اس لئے یہ مجھنا چاہیئے کہ ان کا مقطعہ بھی السفر ہی ہے۔اور جب تک نیا مقطعہ آئندہ سورۃ پر ظاہر نہ ہو۔وہی مقطعہ چلتا ہے۔گا۔یہ توجیہہ ایک عمدہ تو جہ ہے بشرطیکہ اس پر سے ایک اعتراض ہٹا دیا جائے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ اس اصول کے ماتحت پھر خود آل عمران پر بھی اللہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔رہی سورہ بقرہ والا اسوہ کافی تھا۔آل عمران پر دوبارہ السحر لانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور پے در پلے سات سورتوں میں خمر لانے کی کیا حاجت تھی ؟ صرف پہلا حکمر کافی تھا۔دوسرا ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مشلاق قرآن مجید کا آخری مقطعہ ہے یا بقبول بعض لوگوں کے آج آخری مقطعہ ہے جس کے بعد سورۃ ان کس تک کوئی مقطعہ نہیں ہے اب سوال یہ ہے کہ سورۃ تی یا سورۃ ان سے آخر قرآن تک یہی قی یان کا مقطع ان باقی سب سورتوں کا بھی منقطعہ ہے ہے لیکن قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قی یا آن کے معنے باقی کی ہر صورت پر حاوی نہیں ہوتے۔یعنی یہ دعوی ثابت نہیں ہوتا کہ ق کے بعد کی تمام کی تمام سو میں ساری ہی ہم مطلب ہیں بلکہ مضامین میں اس قدر اختلاف ہے کہ سوائے ایک خاص مقطعہ کے ان کے مضامین نہ قی کے ماتحت آتے ہیں نہن کے۔اب اعتراض مندرجہ صدر کا جواب میں اپنے علم کے مطابق دیتا ہوں جس سے اُوپر کی دونوں تو جہات کے بدلے میں ایک نئی توجیہہ پیش کر دوں گا۔جو اگر قابل قبول ہو