مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 369
کو بہترین کلام فرمایا گیا ہے۔دوسرا قرینہ یہ ہے کہ یہاں فاتحہ کو کتاب متشابہ بھی کہا گیا ہے اور سبب عجیب در عجیب اور کثرت و وسعت معانی کے جس قدر فاتحہ کی آیات متشابہ ہیں دیسی قرآن کی اور کوئی آیات متشابہ نہیں ہیں (۳) جواب دوم یہ ہے کہ اگر قرآن مفصل پر ہی ان آیات کا اطلاق مان لیا جائے۔تو بھی یہاں مشانی کے یہ معنے نہیں کہ قرآن کی ہر آیت دوبارہ نازل ہوئی ہے۔یا سرآت قرآن کی متشابہ ہی ہے۔بلکہ یہ کہ اس میں سینکڑوں ایسی آیات ہیں جو مکرر نازل ہوتی ہیں۔اور ہزاروں ایسی ہیں جو منشا یہ بھی ہیں۔اگر موجب آیت مِنْهُ آيَاتٌ معلمات کے اس میں محکم آیتیں بھی ہیں۔پس یہ آیت مثانی والی سَبْعًا من المثانی کے مخالف معنی نہیں دیتی۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں صرف مکررات کا ذکر ہے جو قرآن مجید میں بکثرت ہیں اور وہاں سانت مکررات کا ذکر ہے۔یعنی سبعًا من المثانی کا۔دوسرے لفظوں میں الحمد کی ساتوں آیات کو مکررات کہا ہے مگہ قرآن مفصل کی مکررات کی تعیین نہیں کی۔بلکہ صرف یہ کہہ دیا ہے کہ اس کی بہت سی آیات مکررات میں سے ہیں اور بہت سی مشابہ ہیں۔خلاصه کلام یہاں تک تو مقطعات کا اصولی بیان مقا یعنی یہ کہ مد - یہ فاتحہ کی آیات یا الفاظ کے اختصارات ہیں۔جس سورت پر جو حروف ہیں۔اُن کے مطابق اس صورت میں فاتحہ کی تفسیر ہے حسین سورتوں میں مقطعات نہیں ہیں یا جن میں ہیں ان میں بھی ایک تحمیل تفسیر سورہ فاتحہ کی ہوتی ہے۔وہ اس لئے کہ ہر سورۃ کے سریہ فاتحہ کا خلاصہ اور اس کی آیت