مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 363 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 363

۳۹۲ ترجمہ : اور ہم نے یقیناً تجھے سات دہرائی جانے والی (آیات) اور بہت بڑی عظمت والا قرآن دیا ہے۔اس آیت کی تفسیر جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ہم نے تجھے سات آیتیں مکررات ذواتی والی عنایت کی ہیں۔اور قرآن عظیم عطا فرمایا ہے۔بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ فاتحہ ہی سبعاً من المثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے۔یہ معنی بخاری اور ترندی دونوں ہیں بلکہ دیگر احادیث کی کتب میں بھی موجود ہیں۔جہاں آپ نے فرمایا۔لا عَنكَ سُوْرَةُ هِيَ أَعْلَمُ النُّورِ فِي أَنفُرانِ۔۔۔۔قَالَ الحمد اللهِ رَبِّ الْعَالَمِانَ فِي السَيحُ المَثَانِي وَالقُران العظيم الذى اويته دبخاری پاره ۱۸ صفر ۳ ۴ مترجم مولوی وحید الزمان) اس حدیث کا ترجمہ مولوی وحید الزماں صاحب یوں کرتے ہیں۔فرمایا وہ الحمد کی سورت ہے اس میں سات آیتیں ہیں جو دوبارہ پڑھی جاتی ہیں۔اور یہی صورۃ وہ بڑا قرآن ہے جو مجھ کو دیا گیا۔پس سبع المثانی بھی یہی سورت ہے جس میں سات آیات ہیں اور ہی قرآن عظیم بھی ہے، قرآن عظیم کا لفظی ترجمہ ہی متن قرآن ہے۔کیونکہ تن میں وہ سارا بلکہ اس سے زیادہ مضمون مخفی ہوتا ہے جو کسی تفسیر میں بیان ہو۔یہاں عظیم کا لفظ بلحاظ تعداد آیات کے نہیں بلکہ عظمت مضمون کے ہے۔نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب فاتحہ قرآن عظیم ہے تو باقی قرآن جو ہے وہ کتاب مفصل قرآن مبین اور قرآن حکیم ہے۔جیسا کہ قرآن کا خود دعوئی ہے یعنی فاتحہ کی تفصیل اور تفسیر کرنے والا اور متن کو بیان کرنے والا اور قرآن عظیم معنی الحمد کی حکمتیں اور معارف بیان کرنے والاگو یا دوسرے الفاظ ہیں۔تفسیر فاتحہ ہے۔پس اس آیت کی رو سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کے مطابق فاتحہ قرآن عظیم ہے۔یعنی متن قرآن میں میں سب مضامین بھرے ہوئے ہیں۔اور اس کے