مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 332 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 332

۳۳۱ انعامات الہی وغیرہ کا ذکر برابر کرتا چلا جاتا ہے۔کیونکہ ایسے سارے قصوں کا حقیقی مقصود ہی یہی چیزیں ہوتی ہیں۔ایک دلچسپ تفادل 19 اور 19ء میں میں نے اخبار الفضل میں بہت سے مضامین قرآن مجید کی آیات خصوصاً قصص القرآن کی تفصیلات اور حقیقت کے متعلق لکھے تھے اور محض خدا کے فضل سے بعض باتیں اس زمانہ میں ان قصص کے متعلق مجھ پر کھلی تھیں۔مگر ان دنوں میں حضرت ایوب کا یہ واقعہ مجھ پر منکشف نہیں ہوا تھا۔ایک دن میں نے بہت مبارک میں خاص اسی کے لئے بہت دُعا کی جب دعا کر کے اُٹھا۔تو بیت کے جنوبی دروازوں میں سے مجھے دفتر ریویو آف ریلیجر کی سیڑھیاں جو اس زمانہ میں با ہر بازار کی طرف ہوا کرتی تھیں۔نظر آئیں۔اور میں نے ان سیڑھیوں پر ایک شخص کو چڑھتے دیکھا۔جس کی بغل میں ایک جھاڑو تھی۔معا مجھے بطور تفادل کے یہ خیال آیا کہ انشاء اللہ یہ ضعت یعنی جھاڑو والا قصہ کسی وقت ضرور میری سمجھ میں آجائے گا۔چنانچہ اس واقعہ پر کئی سال گزر گئے کہ پرسوں رات یہ مضمون قصہ ایوب کا مسلسل میرے فرمن میں جس طرح میں نے اس کو یہاں لکھا ہے آگیا۔اور میں نے اُسے احباب کے سامنے پیش کر دیا۔یقین ہے اکثر دوست بھی اسے پسند فرمائیں گے۔الا ماشاء اللہ اور میرے لئے دعائے خیر کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔آپ خود غور فرما کر دیکھ لیں کہ قصہ کسی قدر سادہ اور روحانیت سے پر ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل درحم کا ایک نشان ہے۔مگر عجوبہ پسندوں کے طفیل کیا تماشہ بن گیا ہے۔بات تو صرف اتنی تھی کہ ایک بنی بیمار ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنے فضل سے شفایابی کی تدبیریں بائیں وہ اچھا ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اسے بیماری سے اچھا کیا