مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 217 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 217

۲۱۹ مطلب تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن میری سمجھ میں یہ آتا ہے۔کہ یہ ایسے ذکر ہیں۔جو عالمگیر اور ہایت درجہ وسیع الاثمہ ہیں۔کیونکہ عرش سے حکومت الہی خدا کا انکم الحاکمین اور مالک الملک ہونا مراد ہے۔پس جس طرح خدا کی حکومت سے کوئی چیز یا ہر نہیں۔اور اس کی بادشاہت عالمین پر لیکلی چھائی ہوئی ہے۔اسی طرح ان اذکار کا اثر بھی نہایت درجہ وسیع اور عالمگیر ہے۔چنانچہ سورہ فاتحہ میں جو چار صفات رب العالمين - رحمن - رحیم اور مالک یوم الدین کی ہیں۔وہ اُم الصفات ہیں۔اور قرآن میں لکھا ہے کہ یہ چار صفات گویا عرش عظیم کے چار پایوں کی طرح ہیں یعنی تمام عالمین کا انتظام اور حکومت انہی کے بل چل رہی ہے اسی طرح لاحول ولا قوة الا باللہ بھی عرش کا ایک خزانہ ہے۔کیو نکہ یہ کلمہ بھی جوامع الکلم میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور قوتوں کو عالم کی تمام قوتوں کا منبع اور میداد ٹھہراتا ہے اور خدا کے سوا کسی اور کی طاقت اور قدرت کی لیکلی نفی کہتا ہے۔اس وجہ سے اس کا اثر بھی تمام مخلوقات پر عادی ہے۔پس اپنے کامل وسعت الہ کی وجہ سے یہ دونوں ذکر عرش کا خزانہ کہلانے کے مستحق ٹھہرے قابل افسوس بات جس طرح اور عبادات اسلامی اس زمانہ میں محض چھلکا اور قشرین کہ رہ گئی ہیں۔یہی حال آج کل ان اذکار کا بھی ہو گیا ہے۔اب سُبحان اللہ صرف ایک تعجب کے اظہار کا فقرہ رہ گیا ہے۔اَلحَمدُ للہ خوشی کے اظہار کا۔اور لا حول ولا قوة نفرت کے اظہار کا۔اور لاالہ الا الله بطور قسم کے استعمال ہوتا ہے۔اور اللہ اکسیر احرار کے نعرہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔یہ نہایت درجہ افسوس اور رنج کی بات ہے۔ہماری جماعت کے لئے ذکر الہی کو بھی اپنے اسی اصلی مقام پر قائم کرنا ضروری ہے جو خدا کا مقصد ہے۔واخر دعونا اَنِ الْحَمدُ لِلّهِ رَب العالمين۔الفضل ۱۳۱۱۲۰۷۰۶ تمبر ۶۱۹۴۴