مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 209
۲۰۸ قَهَارُ خَبَارُ مُنتَقِمُ استہزا کرنے والا تکلیف دینے والا۔ایڈا پانے والا۔بھول جانے والا متكبر وغيره۔اس میں شک نہیں کہ قرآن وحدیث میں اس قسم کے الفاظ ضرور آئے ہیں لیکن ان کے معنی کرتے وقت معترض اپنی نانی کی وجہ سے بعض غلطیوں کے مرتکب ہو کر اور کلام الہی کا یا عربی زبان کا اصل مطلب نہ سمجھ کر ان کو لے دوڑتے ہیں۔نہ تو موقعہ محل اور استعارہ اور حسین بیان کا خیال رکھتے ہیں۔نہ اُن اصولوں کو مد نظر رکھتے ہیں جو صفات الہی کے سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔اور د نفت عربی کو دیکھتے ہیں۔اس لئے ضرور ہوا کہ پہلے وہ اصول بیان کئے جائیں جن کے نہ بجھنے سے لوگ ایسے اعتراض صفات باری پر کرتے ہیں۔اور یہ اصول قرآن مجید نے ہی خود بیان کر دیتے ہیں۔پہلا اصل یہ ہے لله الاسماء المحنة (الاعراف (۱۸) یعنی اللہ کے سب اسماء میں حسن و خوبی ہی ہے۔اگر کوئی معنے کسی کمزوری یا عیب یا نقص کے حامل ہوں۔تو وہ جائزہ نہ ہوں گے۔اور یہی صفات الہی کے سمجھنے کا سارا رانہ ہے۔یعنی اسماء الہی کے معافی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان کے مطابق کرنے چاہئیں۔دوسرا اصل یہ ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَى وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ( الشورى (۱۲)۔توجہ نہ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ بہت سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔یمن گر الفاظ کا اشتراک دیگر خدا تعالیٰ اپنی صفات میں دوسروں کی صفات سے مشابہت نہیں رکھتا۔مثلاً انسان بھی سمیع و بصیر ہے اور خدا بھی سمیع و بصیر ہے۔لیکن انسان کے سمع اور بصر محدود ہیں۔دھوکہ کھا سکتے ہیں۔خاص خاص اعضاء کے محتاج ہیں۔انسان اپنے سننے اور دیکھنے میں ہوا اور روشنی کے بغیر لاچار ہے۔پس یہ الفاظ سمجھانے کے لئے ہیں۔ورنہ اس کی اصل حقیقت کا