مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 208
۲۰۷ تھی۔وہی ہمارا قوم ہے اور وہی ہمارا رزاق۔وہی ہمارا مشکل کشا ہے اور وہی ہمارا رسید وہی ہر وقت ہمارے جسم کی مشین کو چلانا۔ہمارے اعمال کو محفوظ رکھتا۔ہماری روح کو اپنی نعمتوں کی لذتوں سے مسرور کرتا ہے۔ہماری ضرورتوں کو بہلاتا۔اور ہماری دعاؤں کو سنتا ہے۔اور ہم ہر لحظہ اسی کی حفاظت اور نگرانی کے محتاج ہیں۔تو پھر اس کے سوا کون ہے جو ہمارا محبوب اور معبود ہو سکے۔یاسم کسی اور آستانہ سے اپنی امید باندھ سکیں۔اسی کا نام تہلیل ہے پس لا اله الا اللہ کا ذکر اس قسم کے یقین اور اس طرح کی ذہنیت کے ساتھ کردو۔تا کہ تم حقیقی موحد ہو۔اور تمھارے اوراد و اذکار نہ صرف تمہاری زبان ہی پر حاوی ہوں بلکہ تمھاری روح کو بھی روشن اور منور کر سکیں۔آمین کچھ اسمائے الہی ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی تسبیح ہوتی ہے۔ملا قدوسُ ، حَيٌّ ع ممد وغیرہ کچھ ایسے ہیں جن سے اس کی تحمید ہوتی ہے۔ملا رحمن ، رحیم، خالق رَب عَلِيمٌ حَكِيمُ زَانُ - وَقَابُ غَفُورُ و غیرہ کچھ ایسے ہیں جن سے ان کی تعظیم او کبریائی ظاہر ہوتی ہے۔مثلاً متكبر عَلَى عَظِيمَ - مَجيدٌ - مَاجِدُ وغيره اور کچھ ایسے ہیں جن سے اس کی توحید کا علم حاصل ہوتا ہے ملا والحد - احد لیکن ایک حصہ اسماء و صفات الہی کا اسلام نے ایسا بھی پیش کیا ہے جس پر مخالف لوگ اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ان اعتراضات کا دفع کرنا اور ان صفات کے صیح معنوں کا پیش کرنا بھی تسبیح میں داخل ہے۔بلکہ موجودہ زمانہ میں ہیں سب سے اعلی قسم کی تسبیح ہے۔جن اسماء و صفات پر لوگ اعتراض کرتے ہیں وہ مختصر احسب ذیل ہیں۔خير الماكياين - خَادِعُ - کید کرنے والا - اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ والا صاحب گرمی غضب کرنے والا۔دھوکہ کھا جانے والا ہاتھ۔ساقی۔وجہ ید بین وغیرہ اعضا والا۔لعنت کرنے والا مضل یعنی گمراہ کرنے والا مہر لگانے والا دلوں کانوں اور آنکھوں پر۔