مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 210
٢٠٩ خدا ہی کو علم ہے۔جب خدا ہے شل ہے تو اس کی صفات بھی بے مثل ہونی چاہئیں۔تیسرا اصل یہ ہے کہ عربی الفاظ کے معنی اہل عرب کی لغت کے موافق ہی ہونے چاہئیں نہ یہ کہ لفظ تو عربی کا ہو مگر معنے اردو کے کئے جائیں۔مگر کید وغیرہ کے الفاظ میں لوگوں کو یہی دھوکا لگا ہے۔سب سے پہلے میں لغوی معنوں کے نہ سمجھنے سے جو غلطیاں پیدا ہوئی ہیں ان کا ذکر کروں گا۔مگر اور کیڈ عربی میں تدبیر اور جنگ کے معنوں میں بھی آتا ہے بس خير الماکرین کے معنے ہوئے کہ اعلی تدبیر کرنے والا اور اکیڈ گیدا کا ترجمہ ہوا۔کہ میں بھی جنگ کروں گا۔وَهُوَ خَادِعُهُمُ کے معنی ہیں۔کہ خدا ان کے دھوکہ کی ستران کو دے گا۔يُخادِعُونَ اللہ کے معنے ہیں کہ منافق لوگ خدا تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں یا بزعم خود دھوکہ دیتے ہیں یا خدا کو ترک کرتے ہیں۔لعنهم الله کے معنی ہیںکہ اللہ تعالے ایسے مجرموں کو اپنے قرب سے محروم کر دے گا۔اور اپنی رحمت سے دور وما يضل بالم الا الفاسقین خدا نگاہ اپنی کو کرتا ہے جو یہ کار ، فاسق، یہ عہد ہوتے ہیں اور اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔اور دلوں وغیرہ پر بھی انہی لوگوں کے مہر لگاتا ہے جو خدا کو چھوڑ کر اپنی ہواؤ ہوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں (جائیہ) اسی طرح قھار کے معنی غالب کے ہیں نہ کہ ظالم کے اور جبار کے معنی بھی شکستہ کی مرمت کرنے والا ہیں۔نہ کہ شکر کے۔اور منتقم کے معنی صیح اور مناسب بدلہ یا سزا دینے والا کے ہیں نہ کہ کینہ نواز کے - اللهُ يَسْتَضِ فِی بِهِمْ کے معنی اللہ ان کے استہزا کی مناسب سرا ان کو دے گا تو اللہ فیھم کے معنی ہیں کہ جب انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو چھوڑ دیا (نیکی بمعنی ترک ) یا انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔تو اللہ نے بھی ان کو اس غفلت کی سزادی۔مگر اب کے معنی عظمت اور کبریائی کا بھی۔انسان کے لئے بسبب اس کی کمزوریوں کے اس لفظ کا استعمال اور بڑائی کا دعو نے غلط ہے لیکن خدا کے لئے بالکل جائز ہے۔اسی طرح إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ میں