حُسنِ اخلاق — Page 51
102 101 کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دینا یہ بہت مشکل اور فقط جواں مردوں کا کام ہے۔اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں۔مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردے میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے۔۔۔۔پس خدا تعالی نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے درگز رنہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔“ نور القرآن جلد 2 روحانی خزائن جلد 9 ص 410,409) لاکھ دوزخ سے بھی بد تر ہے جدائی آپ کی بادشاہی سے ہے بڑھ کر آشنائی آپ کی حسن و احسان میں نہیں ہے آپ کا کوئی نظیر آپ اندھا ہے جو کرتا ہے بُرائی آپ کی کلام محمود صفحه 275 قال اللہ تعالیٰ مسابقت في الخيرات 1- ترجمہ:۔ہر ایک کے لئے ایک مطمح نظر ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا یقیناً اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائی (البقره: 149) قدرت رکھتا ہے۔“ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1- حضرت ابو ایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا گر بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔نماز باجماعت پڑھو۔زکوۃ دو اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کرو۔(مسلم کتاب الایمان باب بیان الايمان الذي يدخله به الجنة) 2- حضرت ابوسعید خذری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔آپ نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تمام بھلائیوں کی یہ بنیاد ہے۔اللہ تعالیٰ