حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 52 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 52

104 103 کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ تیرے لئے نور ہے۔قشیریہ باب التقویٰ صفحہ 56) 3- حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خدا کی راہ میں جس نیکی میں ممتاز ہوا اسے اس نیکی کے دروازے میں جنت کے اندر آنے کے لئے کہا جائے گا اُسے آواز آئے گی اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ تیرے لئے بہتر ہے اسی سے اندر آؤ اگر وہ نماز پڑھنے میں ممتاز ہوا تو نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اگر جہاد میں ممتاز ہوا تو جہاد کے دروازے سے اگر روزے میں ممتاز ہوا تو سیرابی کے دروازے سے اگر صدقہ میں ممتاز ہوا تو صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔حضور کا یہ ارشادسُن کر حضرت ابو بکر نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں جسے ان دروازوں میں سے کسی ایک سے بلایا جائے اسے کسی اور دروازے کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی کوئی ایسا خوش نصیب بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے آواز پڑے گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو۔( صحیح بخاری جلد اول کتاب الصوم صفحہ 721 حدیث 1770) 4- حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور جب رمضان میں جبرائیل آپ کے پاس قرآن کریم کا دور کرنے آتے تو آپ ﷺ پہلے سے بھی زیادہ سخاوت کا اظہار فرماتے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بھلائی اور سخاوت میں آپ ﷺ موسلا دھار بارش اور اس میں چلنے والی تیز ہوا سے بھی تیز رفتار دکھائی دیتے۔(ریاض الصالحين باب الجود) 5- حضرت معادؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے کہ جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے آپ نے فرمایا تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات پوچھی ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے فرمایا تو اللہ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ، باقاعدگی سے زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ ، اگر زادِ راہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔پھر آپ نے یہ فرمایا کیا میں بھلائی اور نیکی کے دروازوں کے متعلق تجھے نہ بتاؤں؟ سنو! روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔صدقہ گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بھجا دیتا ہے۔رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے پھر آپ نے سورۃ السجدہ کی آیت نمبر 17 پڑھی کہ اُن کے پہلو ان کے بستروں سے تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے الگ ہو جاتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ ﷺ نے فرمایا دین کی جڑ اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں میں نے عرض کیا جی ہاں۔یا رسول اللہ ضرور بتائیے۔آپ نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک کر رکھو۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ملا ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہوگا۔آپ نے فرمایا۔و تیری ماں تجھے گم کرے یعنی افسوس اور تاسف کے وقت یہ فقرہ بولا جاتا ہے یعنی کہ لوگ اپنی زبانوں کی کائی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے بُرے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ 66 سے جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔“ ترندی کتاب الایمان باب في حرمة الصلواة)