حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 50 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 50

100 99 پیچھے رہ گیا تھا پس نبی کریم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کون ہے؟ عرض گزار ہوا کہ میں جابر بن عبداللہ ہوں فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ عرض کی کہ میں سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں فرمایا تمہارے پاس چھڑی ہے میں نے کہا ہاں فرمایا تو مجھے دو میں نے پیش کر دی۔آپ نے اُسے مارا اور ڈانٹا پس وہ اس وقت سب لوگوں سے آگے نکل گیا فرمایا کہ یہ میرے ہاتھوں بیچ دو میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ آپ ہی کا ہے فرمایا۔میں نے اسے چارسو دینار میں خرید لیا اور تم مد مدینہ منورہ تک اس پر سوار رہو جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو اپنے مکان کی طرف جانے لگا فرمایا کہاں کا ارادہ ہے؟ عرض گزار ہوا کہ ایک عورت سے شادی کی ہے جو بیوہ تھی فرمایا کہ کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے عرض گزار ہوا کہ میرے والد محترم فوت ہو گئے اور کئی بیٹیاں چھوڑی ہیں لہذا میں نے چاہا کہ کسی تجربہ کار اور بیوہ عورت سے شادی کروں فرمایا یہ بات ہے جب ہم مدینہ پہنچے تو فرمایا اے بلال! کچھ زیادہ دینار۔پس انہوں نے مجھے چار سو دینار اور کچھ قیراط زیادہ دیئے۔حضرت جابر نے فرمایا کہ رسول اللہ نے جو زیادہ عطا فرمایا تھا وہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوتا اور وہ قیراط جابر بن عبداللہ کی تھیلی سے جدا نہیں ہوتے۔( صحیح بخاری جلد اول کتاب الوکالہ صفحہ 847-848 حدیث 2148) عدل کے معنی انصاف یعنی کسی کو اُس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرنا اور احسان کے معنی حق سے بڑھ کر مروت اور نیکی کرنا ہے۔فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام " ” دوسرا خلق اخلاق ایصالِ خیر میں سے عدل ہے اور تیسرا احسان اور چوتھا ایتاء ذی القربی یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان کا موقع اور محل ہو تو وہاں احسان کرو اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبیوں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو اور اس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ یا احسان کے بارے میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس سے عقل انکار کرے یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کرو یا برمحل احسان کرنے سے دریغ کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 353) واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عدل و انصاف کا حضرت اقدس کے ابتدائی زمانہ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جب آپ نے والد کی طرف سے مقدمہ میں دوسرے کے حق میں گواہی دی آپ کے والد کے مزارعین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت، دیانت داری ، انصاف اور عدل کو دیکھتے ہوئے عدالت میں کہہ دیا کہ اگر حضرت مرزا غلام احمد گواہی دے دیں کہ ان درختوں پر ان کے والد کا حق ہے تو ہم حق چھوڑ دیں گے مقدمہ واپس لے لیں گے عدالت نے آپ کو بلایا وکیل نے آپ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔آپ نے فرمایا میں تو وہی کہوں گا جو حق ہے کیونکہ میں نے بہر حال عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں چنانچہ آپ کی بات سُن کر عدالت نے مزارعین کے حق میں ڈگری دے دی اور اس فیصلے کے بعد اس طرح خوش خوش واپس آئے کہ لوگ سمجھے کہ آپ مقدمہ جیت کر آ رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں میں سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن