حُسنِ اخلاق — Page 15
30 29 خدمت میں بذریعہ خط درخواست کی کہ انہیں یہ رقم معاف کر دی جائے جس پر حضرت اقدس نے ان دیرینہ مخالفوں کو ڈگری کی رقم معاف فرما دی۔“ قال اللہ تعالیٰ ( تاریخ احمدیت جلد سوم ) ( منقول از انصار اللہ مارچ 2001ءصفحہ 18 ) ہمسائیوں سے حسن سلوک 1- ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی اور جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔“ (النساء: 37) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1- ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت اقدس محمد مصطفی سے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں اگر میں تحفہ دینا چاہوں تو کس کو بھیجوں۔فرمایا : ”جس کا گھر قریب تر ہے وہی تحفہ کا زیادہ مستحق ہے۔(صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب حق الجواهر في قرب ابواب ) 2۔حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل ہمیشہ مجھے پڑوسی سے حسن سلوک کی تاکید کرتا آ رہا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ کہیں وہ اُسے وارث ہی نہ بنا دے۔“ ( بخاری کتاب الادب باب الوصايا بالجار ) 3۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا مجھے کس طرح معلوم ہو کہ میں اچھا کر رہا ہوں یا بُرا کر رہا ہوں۔حضور نے فرمایا جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم بہت اچھے ہو تو سمجھ لوکہ تمہارا طرز عمل اچھا ہے اور جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم بڑے بُرے ہو تو سمجھ لو تمہارا رویہ بُرا ہے۔(ابن ماجہ ابواب الزهد باب ثناء الحسن) -4- حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔”اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی پڑوسن سے حقارت آمیز سلوک نہ کرے اگر بکری کا ایک پایہ بھی بھیج سکتی ہو تو اسے بھیجنا چاہیے۔(اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔) ( بخاری کتاب الادب باب لا تحقرن جارة لجارتها ) 5- حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سے وہ ساتھی اچھا ہے جو اپنے ساتھی کے لئے اچھا ہو اور پڑوسیوں میں وہ پڑوسی بہترین ہے جو اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔“ ( ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء في الحق الجواهر) 6- پڑوس کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور اس کے حقوق کی ادائیگی کرنا واقعتاً فضل الہی پر منحصر ہے اور انسان کو سچے ایمان کا وارث بنا دیتا ہے