حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 14 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 14

28 27 (صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب 572 حدیث 930 صفحہ 370) 6- عمر بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں میری والدہ میرے پاس آئیں اور مسلمان نہ تھیں پس میں نے نبی کریم سے دریافت کیا کہ کیا ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ فرمایا۔ہاں۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب 563 حدیث 918 صفحہ 366) 7- حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال مکہ میں میں بیمار پڑ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔میں نے حضور کی خدمت میں اپنی بیماری کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرے پاس کافی مال ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی قریبی وارث نہیں کیا میں اپنی جائداد کا دو تہائی حصہ صدقہ کردوں؟ حضور نے فرمایا نہیں۔اس پر میں نے درخواست کی آدھا حصہ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔پھر میں نے عرض کیا کہ تیسرے حصے کی اجازت دی جائے تو آپ نے فرمایا ہاں، جائداد کے تیسرے حصہ کی اجازت ہے اور اصل میں تو یہ تیسرا حصہ بھی زیادہ ہی ہے کیونکہ اپنے وارثوں کو خوشحال اور فارغ البال چھوڑ جانا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ تنگدست اور پائی پائی کے محتاج ہوں اور لوگوں سے مانگتے پھریں تم جو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرو گے۔وہ اپنے رشتہ داروں اور وارثوں پر ہو یا دوسرے غرباء اور مساکین پر اللہ اس کا ثواب تمہیں ضرور دے گا۔(صحیح بخاری جلد سوم کتاب الفرائض باب ميراث البنات حديث (636 1638 خلقت انس میں ہے انس و محبت کا خمیر واقعہ گر محبت نہیں بیکار ہے انسان ہونا در عدن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ سے روانہ ہونے کا قصد کر چکے تھے تو حضرت حمزہ کی یتیم بچی امامہ جو مکہ میں رہ گئی تھی چاچا کہہ کر دوڑتی ہوئی آئیں حضرت علیؓ نے انہیں ہاتھوں میں اُٹھا لیا اور حضرت فاطمہ الزہرا کے حوالے کر دیا کہ یہ لو تمہارے چا کی بیٹی ہے حضرت علی کے بھائی جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بچی مجھے ملنی چاہیے کیونکہ میرے چچا کی ہے۔اور اس کی خالہ میرے گھر میں ہے حضرت زید نے بڑھ کر کہا حضور لڑکی مجھے ملنی چاہیے کہ حمزہ میرے دینی بھائی تھے حضرت علی کا دعویٰ تھا کہ یہ میری بھی بہن ہے اور میری ہی گود میں آئی تھی۔آنحضور اس خوشکن منظر کو دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے پھر سب کے دعوے سن کر بچی کو یہ کہتے ہوئے اس کی خالہ کی گود میں دے دیا کہ خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے۔(صحیح بخاری باب عمرۃ القضاء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معاند رشتہ داروں سے حسن سلوک کا واقعہ ” جب گورا دسپور کی عدالت نے مقدمہ دیوار کے گرائے جانے کا فیصلہ صادر کیا تو عدالت نے مخالفین مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین کے خلاف ہر جانہ اور خرچہ کی ڈگری بھی کر دی جس پر حضرت اقدس کے معاند سخت پریشان ہوئے وہ اپنی ابتر مالی حالت کی وجہ سے مطلوبہ رقم، ایک سو چوالیس روپے پانچ آنے سات پائی، ادا کرنے کے قابل نہ تھے انہوں نے حضرت اقدس کی