حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 70 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 70

140 139 تھے آپ نے وہیں پڑاؤ فرمایا اور لوگ بکھر کر مختلف درختوں کے نیچے آرام کے لئے چلے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمایا اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی ہم سب سو گئے اچانک کیا سنتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بلا رہے ہیں جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں آپ کے پاس ایک دیہاتی آدمی کھڑا ہے آپ نے فرمایا اس نے سوتے میں مجھ پر میری تلوار سونت لی تھی اور جب میں بیدار ہوا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں لہرا رہی تھی یہ مجھ سے کہنے لگا کہ بتا تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے تین بار اللہ اللہ اللہ کہا اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ کچھ بھی نہ کر سکا۔حضور نے اسے کوئی سزا نہ دی۔ایک اور روایت میں جابڑ کہتے ہیں کہ غزوہ ذات الرقاع کا واقعہ ہے کہ ایک دن ہم ایک جگہ سایہ دار درختوں کے پاس پہنچے وہاں آرام کرنے کا فیصلہ ہوا ہم نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے لئے ایک سایہ دار درخت منتخب کیا۔آپ آرام فرما رہے تھے کہ اچانک ایک مشرک وہاں پہنچا۔آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اور آپ سوئے ہوئے تھے اس نے تلوار سونت لی اور حضور کو جگا کر کہنے لگا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ؟ حضور نے اسے جواب دیا نہیں اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضور" کے اس جواب کا اس کافر پر ایسا رعب پڑا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔حضور نے تلوار اُٹھائی اور فرمایا۔اب مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس پر وہ بدو گھبرا گیا اور کہنے لگا آپ درگزر فرما دیں۔آپ نے فرمایا کہ تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس نے جواب دیا میں یہ نہیں مانتا لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کبھی نہیں لڑوں گا اور نہ اُن لوگوں کے ساتھ شامل ہوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔آپ نے اُسے آزاد فرما دیا اور وہ اپنے ساتھیوں میں جاملا اور ان کو بتایا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا میں سب سے بہتر ہے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع ) فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1- توکل کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سُنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 248) 2- تو کل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ (اے ) خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد اور تہہ و بالا کر سکتے ہیں ان کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں کچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 146) ایک شخص نے اپنی خانگی تکالیف کا ذکر کیا فرمایا تم پورے طور پر خدا پر تو کل، یقین اور امید رکھو تو سب کچھ ہو جائے گا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 550) -4- ایک دن مجلس مسیح موعود میں تو کل کی بات چل پڑی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت حبس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے، تو لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہو