حُسنِ اخلاق — Page 71
142 141 گی۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔“ اور خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ :- ”جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق وسرور اللہ تعالیٰ پر تو گل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔اور فرمایا۔ان دنوں میں جبکہ دنیوی مقدمات کی وجہ سے والدصاحب اور بھائی صاحب طرح طرح کے ہموم و عموم میں مبتلا رہتے تھے وہ بسا اوقات میری حالت کو دیکھ کر رشک کھاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب آدمی ہے اس کے نزدیک کوئی غم نہیں آتا۔“ واقعہ:- ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 216-217) حضرت خلیفة المسیح الثانی فرماتے ہیں زلزلے کا ذکر ہے باہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔حضرت بانی سلسلہ کو ایک ضرورت پیش آئی۔فرمانے لگے۔قرض لے لیں پھر فرمانے لگے کہ قرضہ ختم ہو جائے گا تو پھر کیا کریں گے ، چلو خدا سے مانگیں۔عبادت کر کے جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پوری ہوگئی ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا عبادت کے بعد مجھے ملا اس نے ایک تھیلی نکال کر دی اس کی حالت سے میں یہ سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہو گی کھولا تو معلوم ہوا کہ دو سو روپیہ ہے تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حاجات کو جو اس پر توکل رکھتے ہیں اس طرح پورا کیا کرتا ہے تم کبھی دوسرے پر بھروسہ نہ رکھوسوال ایک زبان سے ہوتا ہے ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو پس تم جب ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ خود سامان کرے گا اس صورت میں جب کوئی تمہیں کچھ دے گا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔روزنامه الفضل 26 دسمبر 2005) بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہیے تجھ کو مٹانا قلب نقش دوئی جُھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے ڈریشین یہ متاع ہوش دینداری کبھی لٹنا بھی ہے اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چھٹنا بھی ہے کر تو کل جس قدر چاہیے کہ اک نعمت ہے یہ یہ بتا دے باندھ رکھا اُونٹ کا گھٹنا بھی ہے کلام محمود