حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 69 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 69

138 137 2- حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں اونٹ کا گھٹنا باندھ کر تو کل کروں یا اونٹ کو کھلا چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں۔آپ نے فرمایا پہلے اُونٹ کا گھٹنا باندھو پھر تو کل کرو۔“ (ترمذی صفۃ القیامۃ باب ما جاء فی الصله اوانی العوض) 3- حضرت عبد اللہ بیان کرتے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دعا کرتے کہ اے اللہ تیرے لئے ہر قسم کی تعریف ہے تو زمیں و آسمان کا نور ہے اور تیرے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور تو زمین و آسمان کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان کے درمیان ہے تو حق ہے اور تیرا وعدہ بھی سچ ہے حق ہے اور قیامت بھی حق ہے پھر فرماتے کہ اللہ ! میں نے تیری فرمانبرداری اختیار کی اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر توکل کیا اور تیری طرف ہی جھکا اور تیری خاطر ہی جھگڑا کیا اور تجھے ہی حکم بنایا پس تو مجھے معاف فرما دے ہر وہ خطا جو مجھ سے سرزد ہوئی ہے اور جو آئندہ ہوگی اور ہر وہ خطا جو پوشیدہ طور پر یا اعلانیہ کروں بخش دے وہ گناہ جو میں نے پہلے کئے اور جو بعد میں کئے اور جو میں نے چھپائے اور جو میں نے ظاہر کئے اور تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔( ترمذی ابواب الدعوات از الفضل 22 نومبر 2005) 4- حضرت عمر بن عاص سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کے دل کی ہر وادی میں ایک گھائی ہوتی ہے اور جس کا دل گھاٹیوں کے پیچھے لگا رہتا ہے تو اللہ اُس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کون سی وادی اس کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ اُسے ان سب ابن ماجہ کتاب الزہد باب التوكل ) گھاٹیوں سے بچا لیتا ہے۔5۔حضرت عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ سے سُنا ”اگر تم اللہ پر توکل کرو جس طرح کہ اس پر تو کل کرنے کا حق ہے تو وہ ضرور تمہیں اس طرح رزق دے گا جس طرح کہ پرندوں کو دیتا ہے جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔(ابن ماجہ ابواب الزہد باب المتوکل و یقین ) واقعہ نمبر 1۔دینار صدقہ کر دیئے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی خدا تعالیٰ پر کامل یقین اور توکل کی آئینہ دار ہے۔آپ نے تو کل تام کا ایسا عظیم الشان نمونہ دکھایا کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں کس طرح تو کل کا اظہار فرمایا اے عائشہ ! وہ سونا جو تمہارے پاس تھا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا وہ میرے پاس ہے۔آپ نے فرمایا وہ صدقہ کر دو پھر حضرت عائشہ ” کسی کام میں مصروف ہو گئیں پھر ہوش آیا تو پوچھا کہ کیا صدقہ کر دیا؟ انہوں نے کہا ابھی نہیں کیا پھر آپ نے اُن کو بھیجا کہ لے کر آؤ۔آپ نے وہ دینار منگوائے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گئے اور فرمایا محمد کا اپنے رب پر کیا تو کل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے یہ دینار اس کے پاس ہوں پھر حضور نے وہ دینار صدقہ کر دیئے اور اسی روز آپ کی وفات ہو گئی۔واقعہ نمبر 2 (صحیح ابن حیان بن ذكر من يستحب للمرء ان يكون ) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم پر گئے جب حضور صحابہ کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ قافلہ ایک روز دو پہر کو ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں بہت سے کانٹے دار درختوں کے جھنڈ