حُسنِ اخلاق — Page 37
74 73 جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں اور ہر ایک پر ہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اُٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 344) ”انسان کے لئے لازم ہے کہ چشم خوابیدہ ہو تا کہ غیر محرم عورت کو دیکھ کر فتنہ میں نہ پڑے کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص اور فحش باتیں سُن کرفتنہ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 55 نیا ایڈیشن) میں پڑ جاتے ہیں۔قال اللہ تعالیٰ ایفائے عہد 1- ترجمہ: یقینا اللہ نہیں خلاف کرتا وعدہ کا۔“ (ال عمران : 10) (روم : 7) 2- ترجمہ: - ( یہ ) اللہ کا وعدہ ہے (اور ) اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔“ 3 - ترجمہ: اللہ ہر گز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں (حج:48) کرے گا۔“ -4- ترجمہ: یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“ (ال عمران : 195) 5- ترجمہ: - " (یعنی) وہ لوگ جو اللہ کے (ساتھ کیسے ہوئے ) عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے اور وہ لوگ جو اُسے جوڑتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور بُرے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔“ (الرعد: 21-22) 6- ترجمہ: ”اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر کفیل بنا چکے ہو۔(النحل:92) -7- ترجمہ: اور عہد کو پورا کرو یقیناً عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ ( بنی اسرائیل: 35) 8- ترجمہ: اور وہ جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں جب وہ باندھتے ہیں۔(البقره: 178) 9۔ترجمہ: ” اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔“ (المومنون : 9) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1 - حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں یہ چار عادتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے۔(۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔(۳) جب معاہدہ کرے تو اُسے توڑ دے۔(۴) جب جھگڑے تو