حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 38 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 38

76 75 گالیاں دے۔اگر کسی کے اندر ان میں سے ایک عادت پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کا حصہ موجود ہے یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے۔( صحیح بخاری جلد دوم کتاب الجهاد والسير حديث 212 صفحہ 212) 2- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی جائز وجہ کے کسی معاہدہ کرنے والے کو قتل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔( ابوداؤد كتاب الجهاد باب في لاوفاء بالعهد) 3 حضرت عبداللہ بن ابی الحمسا کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ بعثت سے قبل نبی کریم سے ایک سودا کیا ان کا کچھ واجب الا دا حصہ میرے ذمہ رہ گیا میں نے آپ سے طے کیا کہ فلاں وقت اسی جگہ آکر میں آپ ﷺ کی ادائیگی کر دوں گا مگر میں واپس جا کر وعدہ بھول گیا۔تین روز بعد مجھے یاد آیا تو میں مقرر جگہ حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم اپنی جگہ موجود تھے آپ یہ فرمانے لگے اے نوجوان! تم نے ہمیں سخت مشکل میں ڈالا میں تین روز سے یہاں (اس وقت) تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔(ابو داؤد كتاب الادب باب في العدة 4344) -4- مکی زندگی میں بعثت سے قبل حضرت محمد یہ معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا آپ فرماتے تھے کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور اسلام کے بعد بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور مدد کروں گا۔واقعہ نمبر 1 (احادیث منقول از روزنامه الفضل 3 جولائی 2004) وفائے عہد کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ حکومت کا ایک ایلچی آپ ﷺ کے پاس کوئی پیغام لے کر آیا اور آپ ﷺ کی صحبت میں کچھ دن رہ کر اسلام کی سچائی کا قائل ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں تو دل سے مسلمان ہو چکا ہوں میں اپنے اسلام کا اظہار کرنا چاہتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ مناسب نہیں ہے تم اس وقت حکومت کی طرف سے ایک امتیازی عہدہ پر مقرر ہو کر آئے ہو اس حالت میں جاؤ اور وہاں جا کر اگر تمہارے دل میں اسلام کی محبت پھر بھی قائم رہے تو دوبارہ آکر اسلام کو قبول کر لو۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 268-269) واقعہ نمبر 2 سراقہ سے ایفائے عہد ہجرت مدینہ کے سفر میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہ کا پیچھا کرنے والے سراقہ بن مالک کی روایت ہے کہ جب میں تعاقب کرتے کرتے رسول کریم کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا بار بار ٹھوکر کھا کر گر جاتا تب میں نے آواز دے کر حضور کو بلایا اور حضور کے ارشاد پر ابوبکر نے مجھ سے پوچھا آپ ہم سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا آپ مجھے امن کی تحریر لکھ دیں انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر وہ تحریر لکھ دی اور میں واپس لوٹ آیا۔فتح مکہ کے بعد جب حضور جنگ حنین سے فارغ ہوئے تو حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔حضور انصار کے ایک گھوڑے پر سوار دستے کے حصار میں تھے وہ مجھے پیچھے ہٹاتے اور کہتے تھے کہ کیا کام ہے؟ حضور اپنی اونٹنی پر سوار تھے میں نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور وہی تحریر رسول اللہ کو دکھائی اور کہا میں سراقہ ہوں اور یہ آپ کی تحریر امن ہے رسول کریم نے فرمایا آج کا دن عہد پورا کرنے کا