حُسنِ اخلاق — Page 28
56 99 55 2۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میرا بندہ عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان پر رفع کرتا ہے۔ہے۔( کنز العمال جلد 2 صفحہ 25) 3- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ جس نے عاجزی اور انکساری کی وجہ سے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ ایمان کی پوشاکوں میں جو پوشاک چاہے پہن (ترمذى كتاب الصفة القيامة باب ماجاء في صفة) 4 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کا سر دو زنجیروں میں ہے ایک زنجیر ساتویں آسمان تک جاتی ہے اور دوسری زنجیر ساتویں زمین تک جاتی ہے جب انسان تواضع یا عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زنجیر کے ذریعہ اسے ساتویں آسمان تک لے جاتا ہے اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زنجیر کے ذریعے زمین تک لے جاتا ہے انتہائی نیچے گرا (کنز العمال) دیتا ہے۔5- حضرت ابو سعید خذری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا :- جس نے اللہ کی خاطر ایک درجہ تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا یہاں تک کہ علیین میں جگہ دے گا اور جس نے اللہ کے مقابل ایک درجہ تکتبر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ گرا دے گا یہاں تک کہ اسے اسفل السافلین میں داخل کرے گا۔“ (مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابة ) ( منقول از الفضل 9 جولائی 2002) واقعہ نمبر 1 حضرت ابوہریرہ نے بتایا کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور یہودی کی آپس میں تلخ کلامی ہو گئی اور بحث کے دوران وہ مسلمان قسم کھاتے ہوئے یہ کہہ بیٹھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد مصطفی ﷺ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اس پر اسے یہودی نے جواب دیا اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اس کا یہ کہنا تھا کہ اس مسلمان نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور یہودی کو ایک طمانچہ لگا دیا اس پر یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے اور مسلمان کے درمیان جس طرح جھگڑا ہوا تھا اس کی تفصیل حضور سے عرض کی حضور نے اس کی بات سُن کر فرمایا کہ دیکھو یہود کے سامنے حضرت موسی" پر میری فضیلت نہ بیان کیا کرو کیونکہ اس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔( بخاری کتاب الانبیاء وفاء موسیٰ ) واقعہ نمبر 2 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک (اجنبی شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حضور کے چہرے پر نگاہ پڑی اور آپ کا ایسا رعب اس پر طاری ہوا کہ خوف سے کانپنے لگا حضور نے اس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا بس بس ذرا حو صلے سے کام لو کیوں اتنے خوفزدہ ہو رہے ہو میں کوئی بادشاہ تو نہیں میں تو (اس) ایک قریش عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔( منقول از روزنامه الفضل 20 اگست 2001)