حُسنِ اخلاق — Page 8
16 15 اصلاح بین الناس۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قال اللہ تعالیٰ 1- ترجمہ: ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی کی بات نہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی صدقہ یا معروف کی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی تلقین کرے۔اور جو بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش میں ایسا کرتا ہے تو ضرور ہم اسے ایک بڑا اجر عطا کریں گے۔66 (النساء: 115) 2- ترجمہ: اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بُری باتوں سے روکیں۔اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔“ (ال عمران : 105) 3 " تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو۔اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔“ (ال عمران : 111) 4 - مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں۔“ (التوبہ:71) 5- تو بہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد کرنے والے (خدا کی راہ میں) سفر کرنے والے (اللہ ) رکوع کرنے والے ہسجدہ کرنے والے ، نیک باتوں کا حکم دینے والے اور بُری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے (سب سچے مومن ہیں ) اور تو مومنوں کو بشارت دے دے۔(التوبہ: 112) 6-اے میرے پیارے بیٹے نماز کو قائم کر اور اچھی باتوں کا حکم دے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کر۔(لقمان: 18) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1 - حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے آسانی مہیا کرو، ان کے لئے مشکل پیدا نہ کرو، خوشخبری دو ان کو مایوس نہ کرو۔(مسلم کتاب الجہاد باب في الامر بالتيسير وترك التنفير ) 2- حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص بُرائی دیکھے اور اس میں اس کے روکنے کی مؤثر طاقت ہو تو وہ اس کو ہاتھ سے روک دے۔اور اگر اس میں ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے۔اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو یعنی اس کی بات کا اثر نہ ہو تو دل میں بُرا منائے اور یہ کمزوری کے لحاظ سے ایمان کا آخری درجہ ہے یعنی بُرائی کو اگر دل میں بھی بُرا نہ مانے تو اس کے ایمان کی کیا قدر و قیمت ! ( حديقة الصالحين ص 337)