حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 9 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 9

18 17 3۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھے سے قبل اللہ تعالیٰ نے جس قدر بھی نبی مبعوث فرمائے انہیں کچھ مخلص ساتھی ایسے ملے جو ان کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے اور ان کی کامل اتباع کرتے پھر ان کی وفات کے بعد کچھ ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہ کرتے اور ایسی باتیں کرتے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔پس جو شخص ان سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد کرے وہ صحیح مومن ہے جو اُن سے اپنی زبان کے ذریعہ جہاد کرے وہ بھی مومن ہے اور جو اُن سے اپنے دل کے ذریعہ جہاد کرے یعنی دل میں بُرا منائے وہ بھی مومن ہے اس کے بعد ایمان میں سے ذرہ برابر بھی باقی نہیں رہتا۔(حدیقۃ الصالحين ص 379-377) فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنتُمْ أَعْدَاءً فَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (ال عمران: 104 ) یاد رکھو تالیف ایک اعجاز ہے جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے 66 نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل 336) امر بالمعروف کا بیڑا اُٹھاتے ہیں جو لوگ ان کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ عذاب پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام اور ہی ہوتی ہے اُن کی عز و شان و آب و تاب وہ تجر ہیں سنگباروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل ساری دنیا سے نرالا اُن کا ہوتا ہے جواب لوگ اُن کے لاکھ دشمن ہوں وہ سب کے دوست ہیں خاک کے بدلے میں ہیں وہ پھینکتے مُشک و گلاب ( کلام محمود صفحه 110 ) قال اللہ تعالیٰ والدین سے حسنِ سلوک -1- ترجمہ : اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا 66 شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔“ (النساء : 37) 2۔”اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی تو اُنھیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔“ ( بنی اسرائیل : 24 )