حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 32 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 32

64 63 اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے روحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کر کے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ کو قرآنِ شریف میں اول سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ مثلاً یہی آیت إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرين - بتلا رہی ہے کہ توابین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور مُتَطَهِّرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لئے جدو جہد کرتے رہتے ہیں۔“ ایام صلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 338,337) 2۔حضرت مسیح موعود بھی عام طور پر ہر وقت باوضو رہتے تھے جب کبھی رفع حاجت سے فارغ ہو کر آتے وضو کر لیتے سوائے اس کے کہ کسی بیماری یا کسی اور وجہ سے رُک جاویں۔(سیرت المہدی جلد اوّل صفحه (2) 3 حضرت مسیح موعود مسواک بہت پسند کرتے تازہ کیکر کی مسواک کیا کرتے تھے مسواک کے علاوہ بھی مختلف چیزوں سے دانتوں کو صاف کرتے (سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 103 و فتاوی حضرت مسیح موعود ص 15) -4- حضرت مسیح موعود کو طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔بعض اوقات گھر میں ایندھن کا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوا یا کرتے تھے تا کہ ضرر رساں جراثیم مر جائیں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی جسے کو ٹلے ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔(سیرۃ النبی جلد 2 صفحہ 59) 5- فرمایا ”یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے اسی لئے ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کے دن ضرور غسل کرے۔ہر نماز میں وضو کرے۔جماعت کھڑی ہو تو خوشبو لگائے عیدین اور جمعہ میں جو خوشبو لگانے کا حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے غسل کرنے اور کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے سے سمیت (زہر ) اور عفونت سے روک ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ قانون مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 164) -7- حضرت مسیح موعود کی صفائی رکھنے کی تاکید حضرت مفتی صاحب کے مکان کی نسبت دریافت کر کے فرمایا کہ:- اس کے مالکوں کو کہو کہ روشندان نکال دیں اور آج کل گھروں میں خوب صفائی رکھنی چاہیے۔کپڑوں کو بھی صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔آج کل دن بہت سخت ہیں اور ہوا زہریلی ہے اور صفائی رکھنا تو سنت ہے قرآن شریف میں لکھا ہے وَثِيَابَكَ فَطَهَرُ۔(المدثر : 5) ( ذكر حبيب ) پھر سید فضل شاہ صاحب کو فرمایا کہ۔آپ کا کمرہ بہت تاریک رہتا ہے اس میں تم بھی بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے آج کل وبائی دن ہیں رعایت اسباب کے لحاظ سے ضروری ہے کہ وہاں آگ وغیرہ جلا کر مکان گرم کر لیا کریں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 690)