حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 31 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 31

62 61 واقعہ نمبر 2 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کی وفات سے کچھ دیر قبل میرا بھائی عبدالرحمان میرے حجرے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں مسواک تھی۔میں نے اپنے سینے کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کو سہارا دیا ہوا تھا میری نظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ عبدالرحمان کی طرف دیکھ رہے تھے مجھے خیال آیا حضور کو مسواک کرنا بہت پسند ہے اور صحت کے زمانے میں اس کا بہت اہتمام کرتے تھے جبکہ بیماری میں ایسا نہ کر سکتے تھے شاید اس وقت مسواک کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا ”عبدالرحمان سے مسواک لے کر آپ کو دوں؟“ میرے سوال پر حضور نے سر سے اشارہ کیا ہاں۔اس پر میں نے عبدالرحمان سے مسواک لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔آپ نے مسواک منہ میں رکھی لیکن ضعف بہت تھا دانتوں سے چبانے کی طاقت نہ تھی میں نے پوچھا۔”میں مسواک آپ کے لئے اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کر دوں۔آپ نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔پھر میں نے حضور سے مسواک پکڑی اور اس کو اپنے دانتوں میں خوب چبا کر آپ کے لئے بالکل نرم اور ملائم کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دانتوں پر اچھی طرح پھیرا۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي و وفاۃ حدیث نمبر 4084) غنسل کو عام طور پر مستحب اور بعض حالتوں میں ضروری قرار دیا گیا بعض حالات میں جب تک ایک شخص غسل نہیں کر لیتا وہ عبادت کے اہل نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح ہر جمعہ کے دن غسل ضروری ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔کہ رسول اللہ کے صحابہ اپنے کام خود کرتے اور ان سے پسینے کی بُو آتی آپ نے فرمایا کیا بہتر ہے تم نہا کر آیا کرو ( بخاری کتاب البیوع باب كسب الرجل و عملۂ بیدہ حدیث 1929) حضرت عثمان کونسل کا اتنا خیال تھا کہ اسلام لانے کے بعد روزانہ ایک بار غسل کر لیا کرتے تھے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 67) صحابہ کرام اگر چہ سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور مالی حالت بھی نہ گفتہ بہ تھی مگر غنسل اور طہارت کے لئے حضرت انس کے ہاں ایک حمام تھا۔(بخاری کتاب الصوم باب اغسال الصائم) بالوں کی صفائی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ تھا کہ با قاعدگی سے سر اور داڑھی کے بالوں میں تیل لگاتے تھے اور سکھی کرتے تھے۔(شمائل ترمذی باب ترجل رسول الله) کپڑوں کی صفائی۔ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اصلحوا لباسکم یعنی اپنے لباسوں کو صاف ستھرا اور درست رکھو (ابو داؤد كتاب اللباس ) بچے کی پیدائش کے فوراًبعد اس کو غسل دیا جاتا ہے جس سے گندگی اور آلائش سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے پھر بچے کو گھٹی دی جاتی ہے جس سے پیٹ کی صفائی ہو جاتی ہے۔بال اُتروانے کا حکم ہے اگر بال نہ اُتروائے جائیں تو گندگی اور گند ذہنی سے بچے کا واسطہ ساری عمر کا ہو جاتا ہے۔فرمودات حضرت اقدس مسیح موعود 1 - نکته معرفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔