ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 807

زنم 807 علامت بھی زنک کی نشاندہی کرتی ہے۔اگر زنک سے اس کا علاج نہ کیا جائے تو بعض دفعہ رحم اور اعصاب کی بہت سی بیماریاں یا کمزوریاں زندگی بھر کے لئے لگ جاتی ہیں۔زنک کے زہر سے معدے کا نظام بہت سست پڑ جاتا ہے۔کھانا بہت آہستہ ہضم ہوتا ہے۔بھوک مٹ جاتی ہے، معدے میں تعفن پیدا ہوتا ہے، تیزابیت کی وجہ سے کھٹی قے شروع ہو جاتی ہے۔قبض رہتی ہے۔اس نظام کی ست روی مثانے میں فالجی کیفیت پیدا کرتی ہے۔پیشاب اور اجابت دونوں میں اکٹھی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اس کے برعکس مرکزی میں تیزی اور شدت پائی جاتی ہے۔پیشاب میں جلن ہوتی ہے جو بعد میں بھی جاری رہتی ہے۔پیچش میں بھی یہی ہوتا ہے کہ اجابت کے باوجود پیٹ میں بل پڑتے ہیں اور جلن رہتی ہے۔زنک کا مریض کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کر سکتا۔اسے بیٹھ کر کھل کر پیشاب آتا ہے۔اس کے برعکس کاسٹیکم کا مریض صرف کھڑے ہو کر پیشاب کر سکتا ہے، بیٹھنے پر اس کا پیشاب بالکل بند ہو جاتا ہے یا رک رک کر آتا ہے اور بعض مریضوں کو پیشاب جاری کرنے کے لئے پیچھے کی طرف کھینچنا پڑتا ہے۔زنگ کے ٹکسالی کے مریض کا چہرہ زردی مائل اور جھری دار ہوتا ہے۔ایسا مریض ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے۔جب ذہن پر اثر ہونے لگے اور اس کی یادداشت جواب دینے لگے تو پہلی علامت یہ ظاہر ہوتی ہے کہ مریض سوال کو پہلے دہراتا ہے پھر جواب دیتا ہے۔ذرا سے اچانک شور سے اس کا جسم لرز اٹھتا ہے۔زنک کا مریض اگر مفلوج ہو جائے تو اس کے چہرے پر جو بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اگر چہ وہ اسے بھر پور بڑھاپے سے پہلے ہی بوڑھا دکھانے لگتے ہیں لیکن زنک کے مریض میں جوانی کے عالم میں یہ علامتیں ظاہر نہیں ہوا کرتیں۔یہ سارسپر یلا اور ایگیریکس کا خاصا ہے کہ چھوٹی سی عمر میں ہی مریض بوڑھا دکھائی دے گا۔سارسپر یلا میں تو بعض بچے بھی بوڑھے لگتے ہیں۔زنگ کے بعض مریض ایپس (Apis) کی طرح سوتے میں چیچنیں مارتے ہیں کیونکہ ان کے دماغی اعصاب میں زنک کا مخصوص ارتعاش پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ایپس کی علامتیں تو بڑی آسانی سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر وہ علامتیں نہ ہوں تو بلاتر در زنک شروع