ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 646

او پیم 646 کر جمنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ہومیو پیتھک اوپیم آرنیکا کی طرح خون جمنے کے رجحان کو روک دیتی ہے بلکہ خون کے لوتھڑوں کو پگھلا دیتی ہے۔خصوصاً دماغ میں خون جمنے کی صورت میں اوپیم ایک لازمی دوا ثابت ہوتی ہے۔اگر اچانک دماغ کی رگ پھٹ جائے اور بے ہوشی طاری ہو جائے تو فوراً بہت اونچی طاقت میں آرنیکا کے ساتھ اوپیم ملا کر دینے سے حیرت انگیز فائدہ پہنچتا ہے۔آرنیکا اکیلی اتنی مفید نہیں ہے لیکن اگر اس کے ساتھ اوپیم ملا کر دی جائے تو سارے خون میں طراوت سی آ جاتی ہے ، چستی پیدا ہوتی ہے ، ٹھنڈا جسم گرم ہونے لگتا ہے اور منجمد خون خود بخود ہی پتلا ہو کر معمول کے مطابق گردش کرنے لگتا ہے۔جیسا کہ ذکر گزرا ہے او پیم ایک نیند آور دوا ہے۔اس کا مریض اکثر سویا رہتا ہے یا اس پر غنودگی کا غلبہ رہتا ہے لیکن اس کے برعکس بعض دفعہ اس کی نیند بالکل اڑ جاتی ہے۔اس صورت میں اوپیم کی کافیا سے بہت مشابہت ہے کیونکہ کا فیا میں بے خوابی اور زود حسی پائی جاتی ہے اور او پیم کے مریض کی نیند اڑ جائے تو وہ بہت زود حس ہو کر بے آرامی محسوس کرتا ہے اور خیالات کی فراوانی اسے پریشان رکھتی ہے۔پس اگر او پیم کی وجہ سے نیند اڑے تو کافیا مفید ہوتی ہے۔اور اگر کافی پینے کی وجہ سے نیند اڑے تو نکس وامیکا کے علاوہ اوپیم بھی مفید ہے۔جن مریضوں کو شدید قبض ہو جاتی ہے، انتڑیاں بالکل خشک ہو جاتی ہے اور اجابت محسوس ہی نہیں ہوتی ان کی دوا بھی اوپیم ہوسکتی ہے لیکن او پیم کی علامات والے مریضوں کو بعض دفعہ پیچش ہو جاتی ہے۔اس صورت میں قبض قبض نہیں رہتی ، مروڑ اٹھتے ہیں اور اجابت بھی نرم ہوتی ہے۔او پیم کا مثالی مریض بہت ڈرپوک ہوتا ہے۔اندھیرے سے سخت ڈرتا ہے۔ڈراؤنے خیالات آتے ہیں۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہو کر اپنی بیماری اور تکلیف کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔غنودگی اور بے ہوشی کی سی حالت میں رہتا ہے۔کسی چیز سے خوفزدہ ہونے کے بعد اسے سر میں چکر آنے لگتے ہیں۔او پیم کی سلفر سے بھی مشابہت ہے۔سلفر مریض کے طبعی احساسات کو جگا دیتی ہے۔