ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 647

647 اویم وہ دوا دوا ئیں جن کی تشخیص درست ہوتی ہے لیکن وہ کام نہیں کرتیں ،سلفر کی ایک دوخوراکوں کے بعد کام کرنے لگتی ہیں۔اوپیم بھی مریضوں کے خوابیدہ دفاعی احساسات کو جگانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس پہلو سے یہ سلفر سے مشابہ ہے۔سلفر کا مثالی مریض بھی بہت سست ہوتا ہے اور فلسفیانہ مزاج رکھتا ہے۔او پیم کے مریض کے نرخرے میں فالجی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ عضلات جو خوراک کو غذا کی نالی میں دھکیلتے ہیں کمزور پڑ جاتے ہیں اور بعض اوقات کھانا ناک یا سانس کی نالی میں چلا جاتا ہے جو بہت خطرناک ہے۔اگر یہ رجحان بڑھ جائے تو بعض دفعہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اوپیم اس رجحان کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔او پیم کی بے حسی ایسی ہے کہ مریض کو اپنے مرض کی شدت کا احساس نہیں ہوتا اور یہ بے حسی اسے اپنے اندر موجود خطرات سے پوری طرح متنبہ نہیں ہونے دیتی اور اس کا زبر دستی علاج کرنا پڑتا ہے۔او پیم جسم میں خشکی پیدا کرتی ہے لیکن بخار میں اوپیم کے ہم مزاج مریض کو بہت پسینہ آتا ہے جس سے درجہ حرارت کم نہیں ہوتا۔یہ اوپیم کی خاص علامت ہے۔بار بار پسینہ آتا ہے جو گرم ہوتا ہے جیسے گرمیوں کی برسات کا پسینہ جو جسم کو ٹھنڈا نہیں کرتا بلکہ گرمی کے احساس کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔یہی حال او پیم کا ہے۔اوپیم کا مریض کھانے کا بہت شوقین ہوتا ہے۔کھانا کھانے کے باوجو د بھوک اور کمزوری کا احساس باقی رہتا ہے۔اس کے اکثر مریض زیادہ کھانے کے باوجود دبلے پتلے ہوتے ہیں۔اوپیم کے مریضوں کو الٹیاں بھی بہت آتی ہیں۔مارفین یا دیگر ٹیکوں کا اثر ختم ہونے پر عموماً شدید متلی شروع ہو جاتی ہے۔ان مریضوں کو ہومیو پیتھک او پیم دینے سے افاقہ ہوتا ہے۔حمل کے دوران ہونے والی متلی جو کسی دوا سے قابو میں نہ آئے، اس میں بھی اوپیم مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اوپیم کی متلی میں بھوک نہیں ملتی مگر کھانا کھاتے ہی الٹی آ جاتی ہے۔نظام ہضم سست ہونے کی وجہ سے مریض کا کھانا معدے میں اکٹھا