ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 613
نیٹرم کارب 613 مکھی کے بدن پر کسی بیکٹیریا کا کوئی نشان نہیں ملتا اور وہ ہر قسم کے جراثیم سے کلیتا پاک ہے۔یہ ایک حیرت انگیز دریافت تھی جس سے ایک نئی تحقیقی دور کا آغاز ہوا کہ کیا وجہ ہے کہ شہد کی مکھی ہر قسم کے جراثیم سے پاک ہوتی ہے۔قرآن کریم کا یہ فرمانا کہ فِيْهِ شِفَاء لِّلنَّاسِ بڑی گہرائی رکھتا ہے۔جب فرانس میں یہ تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ شہد کی مکھی اتنی صفائی پسند ہے کہ شہد کے ہر یکھی چھتے کے کنارے پر یہ ایک کیمیکل لگاتی ہے جس کا نام پروپلس (Propolis) ہے۔پروپلس کو سفیدے اور دوسرے درختوں سے رسنے والے موم سے تیار کرتی ہے اور اپنے چھتے کے کناروں پر ہر طرف مل دیتی ہے۔جب بھی اندر جاتی ہے پہلے کنارے پر پاؤں رکھتی ہے۔جب باہر آتی ہے پھر بھی اس پر پاؤں رکھ کر باہر نکلتی ہے جس سے اس کے پاؤں پر وہ مادہ لگ جاتا ہے جو ا سے جراثیم سے پاک رکھتا ہے۔اسی وجہ سے شہد کے چھتے میں کوئی جراثیم داخل نہیں ہو سکتے۔اس تحقیق کے بعد ڈنمارک میں ایک قابل زمیندار نے خصوصی فارم تیار کر کے شہد کی مکھی کی افزائش کی جہاں سے وہ بڑی مقدار میں پروپلس حاصل کرتا تھا۔پروپلس کو گلیسرین یا وٹامن ای کریم میں ملا کر استعمال کیا جائے تو روز مرہ کے پھوڑے پھنسیوں میں بہت مفید دوا ہے۔نیٹرم کا رب میں ناک کی بیرونی سطح پر ہی نہیں بلکہ ناک کے اندر بھی زخم بنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔سخت بدبودار نزلہ ہوتا ہے جو دائمی شکل اختیار کر لیتا ہے اور گلے میں ہر وقت خراش پیدا کرتا ہے۔قوت شامہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔عام طور پر چہرہ زرد ہوتا ہے۔آنکھوں کے گرد حلقے ، منہ میں زخم اور چھالے بن جاتے ہیں۔خصوصاً دودھ پلانے والی عورتوں کے منہ کے چھالوں میں نیٹرم کا رب بہترین دوا ہے۔جن عورتوں کو دائگی لیکوریا کی تکلیف ہوتی ہے ان کے بانجھ پن کے لئے بھی مفید ہے۔یہ علامات تو اور بھی بہت سی دواؤں میں پائی جاتی ہیں لیکن نیٹرم کا رب کی خاص علامت یہ ہے کہ مریضہ کا مزاج ٹھنڈا ہو گا ، دائمی بانجھ پن کا شکار ہو گی اور مسلسل جاری رہنے والا لیکوریا ہو گا۔اگر یہ سب علامتیں اکٹھی ہو جائیں تو خدا کے فضل سے یہ