ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 614
نیٹرم کارب دوا بانجھ پن کو دور کرنے میں بہت موثر ہے۔614 نیٹرم کا رب میں ٹخنوں کی مستقل کمزوری کا رجحان پایا جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے پاؤں اکثر رپٹ جاتے ہیں۔ایسی مستقل کمزوری جو کسی کے مزاج میں داخل ہو اور کسی حادثے یا چوٹ کا نتیجہ نہ ہو، اس میں نیٹرم کا رب بہت مفید ہے۔ویسے مخنوں میں موچ کے لئے سب سے مؤثر دوائیں روٹا (Ruta) یا بیلس (Bellis) ہیں۔سخت موچ کے بداثرات کے لئے آرنیکا کی اونچی طاقت بیلاڈونا سے ملا کر دی جائے تو فوری طور پر فائدہ مند ہوتی ہے اور مرض کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔لیکن اگر شروع میں یہ دوا نہ دی جائے تو باقی رہ جانے والے اثرات میں روٹا مفید ہے۔بعض دفعہ بیلس یا رسٹاکس کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔نیٹرم کا رب ٹخنوں کی اندرونی کمزوری کی وجہ سے موچ آتے رہنے کے رجحان کو دور کرتی ہے۔نیٹرم کا رب کا مریض زیادہ تر غمگین اور پریشان رہتا ہے۔مسلسل غم کے خیالات میں ڈوبا رہتا ہے۔حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔ذہن کمزوری محسوس کرتا ہے۔موسم کی تبدیلی اور سردی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔بادلوں کی گھن گرج کے دوران بہت بے آرامی محسوس کرتا ہے۔موسیقی سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔کچھ مخصوص لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔کھانا کھانے کے بعد بد مزاجی اور چڑ چڑا پن بڑھ جاتا ہے۔ذراسی بھی ذہنی تھکاوٹ سے سر میں درد ہوتا ہے جو سورج یا گیس کی روشنی میں بڑھ جاتا ہے اور چکر بھی آتے ہیں۔جسمانی یا ذہنی محنت سے تکلیفیں بڑھتی ہیں اور بہت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔چلتے ہوئے لڑکھڑاتا ہے۔عضلات میں اینٹھن محسوس ہوتی ہے۔غدودوں میں ورم یا سختی پائی جاتی ہے۔سرد ہوا کے جھونکے سے نفرت ہوتی ہے۔بظا ہر یہ علامات لو لگنے کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہونی چاہئیں لیکن بعض انسانوں پر لو لگنے کے بہی دائگی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ مزاج کے لحاظ سے نیٹرم کا رب ٹھنڈی دوا ہے۔نیٹرم کا رب میں آنکھوں کے سامنے سیاہ رنگ کے دھبے آتے ہیں۔آنکھ کھلنے پر