ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 612

نیٹرم کارب 612 محسوس ہوتی ہے۔نیٹرم کا رب کی جلدی بیماریوں میں انگلیوں کے کناروں یا پاؤں کے پنجوں کے کناروں اور انگلیوں کے جوڑوں پر خصوصیت کے ساتھ ابھار پیدا ہوتے ہیں۔جسم کے دوسرے حصوں پر جگہ جگہ چٹاخ سے بن جاتے ہیں۔خارش گول گول ٹکڑوں کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ہر پیز (Herpes) میں بھی یہ دوا مفید ہے۔اگر چہ ہر چیز کی علامتوں سے اس دوا کو امتیازی طور پر پہچاننا آسان نہیں ہے۔اگر مریض میں نیٹرم کا رب کی علامتیں موجود ہوں اور دوسری دواؤں سے ہر چیز کو فائدہ نہ ہو تو نیٹرم کا رب کو بھی استعمال کر کے دیکھنا چاہئے۔سوڈیم اور کار بونیٹ دونوں اعصاب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس پہلو سے ہر چیز جو بنیادی طور پر اعصابی تکلیف ہے اس کا مریض اس دوا سے فیض یاب ہوسکتا ہے۔نیٹرم کا رب لو لگنے کے باقی رہنے والے بداثرات میں نمایاں کام کرتی ہے۔لو لگنے کے بعد بعض دفعہ نزلہ گلے میں گرنے لگتا ہے اور مستقل بیماری بن کر چمٹ جاتا ہے۔اس میں نیٹرم کا رب بہت مفید ہے۔سر درد کے دورے اور گرمی سے زود حسی میں بھی یہ بہت اچھا اثر دکھاتی ہے۔نیٹرم کا رب میں ناک کے سر پر کچے کچھے ناسور ظاہر ہونے لگتے ہیں۔یہ اس کی خاص علامت ہے کہ ناک کی چونچ کسی نہ کسی جلدی بیماری میں مبتلا رہتی ہے۔اگر ناک پر پھوڑے بن جائیں تو اس میں بھی مفید ہے لیکن ایک دفعہ ایک مریض کو نیٹرم کا رب سے فائدہ نہیں ہورہا تھا، جب میں نے اسے پروپلیس (Propolis) کی مرہم بنا کر دی جو شہد کی مکھی خود اپنے لئے جراثیم کش دوا کے طور پر بناتی ہے تو ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ میں اس کا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا۔شہد کینسر کے زخموں اور آنکھوں کے ناسور وغیرہ میں بھی غیر معمولی اثر دکھاتا ہے۔پروپلس بہت طاقتور دوا ہے لیکن کیمیائی لحاظ سے بہت ہلکی ہے۔ایک دفعہ فرانس میں یہ تحقیق ہوئی کہ دنیا میں جتنے بھی کیڑے مکوڑے ہیں وہ سب کچھ نہ کچھ جراثیم (Bacteria) اٹھائے پھرتے ہیں۔چنانچہ یہ معلوم کیا جائے کہ ہر قسم کے کیڑے مکوڑے کا کس خاص بیکٹیریا سے تعلق ہے۔جس سائنس دان نے شہد کی مکھی پر تحقیق کی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شہد کی