ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 572
میلنڈرمینم 572 ہے کہ یہ بہت گہرا اثر کرنے والی دوا ہے اس لئے اسے بلاضرورت بار بار نہیں دہرانا چاہئے۔حاد یعنی فوری نوعیت کی بیماریوں میں اسے دہرایا جاسکتا ہے لیکن حفاظتی مقاصد کے پیش نظر اسے لمبے وقفہ سے استعمال کرنا چاہئے۔چیچک کے ٹیکے کے ردعمل کے طور پر جسم پر ایگزیما ظاہر ہو جائے تو اس میں بھی میلینڈ رینم مفید ہے مگر چیچک کے ٹیکے کے بداثرات دور کرنے کے لئے زیادہ مشہور دوا تھو جا ہے۔میلینڈ رینم کا ہڈیوں پر بھی اثر ہوتا ہے۔اگر ہڈیوں میں نقص پیدا ہو جائے اور وہ ٹیڑھی ہو جائیں اور ٹانگوں کی ہڈیاں اندر کی طرف مڑنے لگیں اور چلتے ہوئے گھٹنے کی ہڈیاں آپس میں ٹکرانے لگیں تو میلنڈرینم سے فائدہ ہوگا۔کمزور ہڈیوں کے لئے کلکیریا کارب بہت مفید دوا ہے بلکہ اصل دواہی یہ ہے لیکن میلنڈ رینم بھی اچھا کام کرتی ہے۔میلنڈرینم جلدی امراض میں بھی مفید ہے۔ہر قسم کے ایگزیما، آبلوں اور چھالوں میں اچھا اثر دکھاتی ہے اس کے آبلے اور چھالے آہستہ آہستہ نکلتے ہیں، ایک کے بعد دوسرا اور پھر ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور چھالوں کی فصلیں اگنے لگتی ہیں۔جانوروں کی بیماریوں میں بھی اس کا استعمال مفید ہے۔ایک ڈاکٹر نے ایک ایسے کتے کو میلینڈ رینم دی جس کی گردن میں خطرناک چھالے نکلے ہوئے تھے وہ فوراً ٹھیک ہو گیا۔میلینڈ رینم وجع المفاصل اور جوڑوں کی اندرونی کی جھلیوں کی سوزش میں بھی مفید ہے۔عموماً یہ دوا جسم کے نچلے حصوں میں زیادہ اثر کرتی ہے۔ٹانگوں پر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔کمر میں دکھن اور چوٹ لگنے کی طرح کا درد ہو تو بھی میلنڈرینم مفید ہے۔میلینڈ رینم عورتوں کے رحم کی تکالیف کے لئے بھی اچھی بتائی گئی ہے۔اندرونی اعضاء میں خارش، سوزش اور سبزی مائل لیکوریا کے اخراج میں اچھا اثر دکھاتی ہے۔مسوڑھوں سے خون آئے۔ذرا سا دبانے سے بھی خون جاری ہو جائے تو میلینڈ رینم بھی دوا ہو سکتی ہے اور اس لحاظ سے اس کی علامتیں کر ئیوز وٹ