ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 528
528 لیک کینا ئینم ہونے کے بعد دل کی تکلیف ہو جائے تو سب سے پہلے سپائی جیل یا ذہن میں آنی چاہئے۔اس سے تکلیف وہیں رک جاتی ہے اور آگے نہیں بڑھتی۔بعض مریضوں کو کھانے کی نالی میں فالج ہو جاتا ہے اور وہ کوئی ٹھوس چیز نگل نہیں سکتے۔بعض بچوں میں فالجی کیفیت تو نہیں ہوتی لیکن اس نظام میں کمزوری کی وجہ سے ٹھوس چیزیں نگلنے کی طاقت ہی نہیں رہتی۔اس علامت میں لیک کینا ئینم بہت مفید ہے مگر اس کا تعلق صرف عضلات کے فالج سے ہے دوسری کمزور یوں سے نہیں۔لیک کینا ئینم کا عورتوں کی بیماریوں سے بھی تعلق ہے۔رحم اور بیضہ الرحم میں دونوں طرف درد ہوتا ہے۔حیض کھل کر جاری ہونے سے مریض کی تمام نسوانی تکلیفیں دور ہو جاتی ہیں۔اس لحاظ سے اس کا مزاج سمی سی فیو جا سے بالکل مختلف ہے۔سمی سی فیو جا میں حیض کھل کر جاری ہو تو تکلیفیں بھی بڑھ جاتی ہیں لیکن لیک کینا ئینم میں رحم کی وہ تکلیفیں شامل ہیں جو سارا مہینہ جاری رہیں اور کھل کر حیض جاری ہونے پر بالکل ختم ہو جائیں۔گلے کی خرابی حیض کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور حیض ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔یہ لیک کینائینم کی امتیازی علامت ہے جو ذہن نشین رہنی چاہئے۔دنیا کے کسی اور طبی نظام میں ایسی علامتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے نزدیک تو یہ فرضی اور بے معنی باتیں ہیں۔ہومیو پیتھی میں اس قسم کی عجیب علامتیں ضرور کسی نہ کسی دوا کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس لئے انہیں یا درکھنا ضروری ہے۔مثلاً اگر حیض شروع ہونے سے پہلے گلا خراب ہوتا ہوتو یہ میگنیشیا کا رب کی بھی علامت ہے لیکن اس صورت میں حیض ختم ہونے کے ساتھ گلا ٹھیک نہیں ہو گا بلکہ اس کا الگ علاج کرنا پڑے گا۔گلے کی خرابی کا حیض کی ابتدا اور اختتام سے تعلق ہونا لیک کینائینم کا خاصا ہے۔کلکیر یا کارب میں بھی سمی سی فیوجا کی طرح حیض کے کھل کر جاری ہونے سے تکلیف بڑھتی ہے مگر کلکیریا کارب میں اس تکلیف کا گلے سے تعلق ہوتا ہے،اندرونی اعضاء سے نہیں۔لیک کینائینم میں حیض کے خون کے ساتھ جمے ہوئے خون کے لوتھڑے آتے ہیں۔